Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
561 - 649
 میں نے کہا:''کیوں نہیں، ضرور دکھائیں۔'' چنانچہ، اس عورت نے اپنے ہاتھ بڑھا کر ہونٹوں کو ابھی جنبش دینا ہی چاہی تھی کہ اس کے دونوں ہاتھ سونے کی اشرفیوں سے بھر گئے ۔پھر اس نے کہا:''اے عثمان !یہ لیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! یہ سونے کی اشرفیاں ایسی ہیں کہ ان پر کسی بادشاہ و سلطان کا نام منقّش(یعنی لکھا ہوا) نہیں اور یاد رکھیں کہ اگر آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے محبت کریں گے تو وہ آپ کو تمام مخلوق سے بے نیاز کردے گااور صرف وہی آپ کے لئے کافی ہو گا۔''

    سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!ان لوگوں کی کیا شان ہے جو راتوں کو جاگ کر سخت تاریکی میں اپنے محبوب سے مناجات کرتے ، کثرت سے عبادت کرتے ہیں،یقینا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے کلا م میں انہی لوگوں کی مدح کی ہے:
(6) اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں۔(۱)(پ22،الاحزاب :35)
ظالم آقا کے ہاتھ شل ہو گئے :
    منقول ہے،''بصرہ میں اسماء نامی ایک عبادت گزار کنیز رہتی تھی۔ بہت حسن وجمال، شیریں زبان اور خوبصورت آنکھوں والی تھی۔ اس کا آقا بھی خوشحال اور صاحب ِ اقتدار تھا۔ایک دن اس کاحضرتِ سیِّدُنا صالح مری علیہ رحمۃ اللہ القوی کے اجتماع سے گزر ہوا۔ اس وقت آپ لوگوں کو وعظ و نصیحت کر رہے تھے، وہ وعظ سننے والی عورتوں کی جانب جا کر کھڑی ہو کر وعظ سننے لگی۔آپ 

قیامت اور جہنم کی ہولناکیوں اور جہنمیوں کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تیار کی ہوئی خوف ناک سزاؤں، زنجیروں اورطوق وغیرہ کا ذکر کر رہے تھے۔اس کنیز نے مردوں ، عورتوں کو آپ کے بیان کے سبب گریہ وزاری کرتے ہوئے دیکھا تواس کے دل میں رقّت پیدا ہو گئی، اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے،آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور اس کی بے قراری و اضطراب میں اضافہ ہو تاچلا گیا۔

    جب حضرتِ سیِّدُناصالح مری علیہ رحمۃ اللہ القوی اس کی طرف متوجہ ہوئے اوراس کوآنسو بہاتے دیکھا تولوگوں سے پوچھا: ''یہ کون ہے؟ '' بتایا گیا: '' یہ اسماء ہے۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنا چہرۂ انور اس کی طرف کیا اور اپنے وعظ کے تیراس کے دل
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کا شان نزول بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: ''اسماء بنتِ عمیس جب اپنے شوہر جعفر بن ابی طالب کے ساتھ حبشہ سے واپس آئیں تو ازواجِ نبئ کریم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم سے مِل کر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا عورتوں کے باب میں بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: '' نہیں۔'' تو اسماء نے حضور سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم سے عرض کیا کہ '' حضور! عورتیں بڑے ٹوٹے میں ہیں۔''فرمایا: '' کیوں؟'' عرض کیا کہ '' ان کا ذکر خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں، جیسا کہ مردوں کا ہوتا ہے۔'' اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مردوں کے ساتھ ذکر کئے گئے اور اُن کے ساتھ اِن کی مدح فرمائی گئی اور مراتِب میں سے پہلا مرتبہ اسلام ہے جو خدا اور رسول کی فرمانبرداری ہے۔ دُوسرا ایمان کہ وہ اعتقادِ صحیح اور ظاہر و باطن کا موافق ہونا ہے۔ تیسرا مرتبہ قنوت یعنی طاعت ہے۔''
Flag Counter