| حکایتیں اور نصیحتیں |
کے رفقاء نے بھوک کی شکایت کی کیونکہ ان کا تمام کھانے کا سامان ختم ہو چکا تھا ۔ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے انہیں بچا ہوا کھانا لانے کا حکم فرمایا۔ کوئی مٹھی بھر گندم لے آیاتوکوئی مٹھی بھر مسور کی دال،کوئی لوبیا کی مُٹھی لایا تو کوئی بھنے ہوئے چنے لے آیا یہاں تک کہ مختلف اناجوں کی سات مٹھیاں جمع ہو گئیں۔ اوروہ عاشوراء کا دن تھا۔ حضرت سیِّدُنانوح علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس اناج پر بسم اللہ شریف پڑھی اور اسے پکا کر سب نے کھایا اورآپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی برکت سے سب کا پیٹ بھر گیا۔اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
(7) قِیۡلَ یٰنُوۡحُ اہۡبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَکٰتٍ عَلَیۡکَ وَعَلٰۤی اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَکَ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:فرمایاگیا اے نوح کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کے کچھ گروہوں پر۔(پ12،ھود :48)
اوریہ وہ پہلا کھانا تھا جو طوفان کے بعد روئے زمین پرپکایا گیا۔ پھر لوگوں نے اسے یوم عاشوراء کی سنت بنا لیا۔پس جو اس دن کھانا پکائے اور فقراء ومساکین کو کھلائے تو اس کے لئے اجر ِعظیم ہے۔(تفسیرروح البیان،سورۃ ھود،تحت الآیۃ۴۸، ج۴، ص۱۴۲)
منقول ہے،جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُناموسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے وعدہ فرمایاکہ وہ اس سے مخاطب ہو گااور کلام فرمائے گا نیز اسے تختیوں کی صورت میں تورات عطا فرمائے گا توآپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کو تیس روزے رکھنے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام نے روزے رکھے اور وہ ذو ا لحجۃ الحرام کا مہینہ تھا۔ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیداہونے والی منہ کی بو کوناگوار جانااورخرُّوب(یعنی کیرب، یہ ایک درخت کا نام ہے )کی لکڑی کی مسواک فرمالی۔ایک قول کے مطابق وہ زیتون کی تھی جبکہ ایک قول یہ ہے کہ کسی دوسری لکڑی کی تھی۔ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کو فرمایا گیا: ''اے ہمارے حکم سے روزے رکھنے والے! تو نے اپنی رائے سے کیسے افطار کر لیا؟ کیاتو نہیں جانتاکہ روزے دار کے منہ کی بُو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاک ہے ؟'' پھرآپ علیہ السلام کے اس فعل پر بطورِ کفارہ مزید دس روزے رکھنے کا حکم دیا۔
چنانچہ، قرآنِ پاک میں ارشاد ربّانی ہے:
(8) وَوٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً وَّاَتْمَمْنٰھَا بِعَشْرٍ
ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کاوعدہ فرمایااور ان میں دس اور بڑھاکرپوری کیں۔(پ9، الاعراف:142)
ایک قول کے مطابق'' بِعَشْرٍ'' سے مراد محرم کا پہلا عشرہ تھا۔دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ذو الحجۃ الحرام کا پہلا عشرہ تھا۔ پہلے قول کے مطابق آخری دن یومِ عاشوراء کا تھا اور یہی وہ دن ہے جس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے کلام فرمایااور ان پر اپنی کتاب تورات نازل فرمائی۔پھر اس نے اس آدمی کو مخاطب کر کے کہا: ''بہادر نوجوان! جس شخص نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُنسیت حاصل کر لی وہ دوسروں سے وحشت محسوس کرتا ہے اور جو رضا کا طالب ہے تو وہ اس کے فیصلے پر صبر کرتا ہے ۔''
دونوں ہاتھ سونے کی اشرفیوں سے بھر گئے:
حضرتِ سیِّدُنا عثمان جرجانی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّوْرَانِی فرماتے ہیں :''میں ایک دن بصرہ جانے کے لئے کوفہ سے نکلا توراستے میں ایک خاتون پرمیری نظر پڑی،اس نے اون کا جبہ پہنا اوربالوں کادوپٹہ اوڑھا ہواتھااور وہ چلتے ہوئے کہہ رہی تھی :''ا ے میرے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ! اس کی منزل کتنی دور ہے جس کا راہنمانہیں۔ اوراس کا راستہ کتنا وحشت ناک ہے جس کا ہم سفر نہیں۔ '' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''میں نے قریب جا کراسے سلام کیا ۔اس نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، آپ کون ہیں؟''میں نے اپنا نام بتایاتو کہنے لگی :''اے عثمان!اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی عمر دراز فرمائے ، کہاں کا ارادہ ہے؟'' میں نے کہا: ''بصرہ کا۔'' پوچھنے لگی:''کس کام کی غرض سے ؟ ''میں نے جواب دیا:''اپنی کسی حاجت کے لئے۔''
یہ سن کر وہ کہنے لگی :'' آپ تمام حاجات پوری کرنے والے کو حاجت کیوں نہیں بتاتے کہ وہ آپ کی طرف توجہ فرمائے اور آپ کو اتنی مشقت نہ جھیلنی پڑے؟'' میں نے کہا:''مجھے ابھی اس کی معرفت حاصل نہیں ہوئی۔''اس نے کہا:'' حصولِ معرفت میں کون سی چیزرکاوٹ ہے؟''میں نے جواب دیا:'' گناہوں کی کثرت ۔'' اس نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!یہ بہت بری بات ہے، گناہ نہ کیاکرو۔ اگر آپ اپنی رسی کو اس کی رسی سے مضبوط باندھ دیں تو وہ آپ کی حاجت پوری فرما دے گا اور آپ کو کوئی مشقت بھی نہ اٹھانی پڑے گی ۔''اس عورت کی یہ بات سن کر مجھے رونا آ گیا۔پھر میں نے اس سے دعا کی درخواست کی تو اس نے دعا دی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی اطاعت کرنے اور نافرمانی سے بچنے پر آپ کی مدد فرمائے ۔ جب میں لوٹنے لگاتو اپنی جیب سے درہم نکال کر آدھے اس کو دیئے اور کہا:'' یہ رکھ لیں، آپ کے کام آئیں گے۔''اس نے پوچھا: ''یہ آپ نے کہاں سے حاصل کئے ہیں؟'' میں نے بتایا:''میں پہاڑ پر چڑھ کر وہاں سے لکڑیوں کا گٹھااکٹھا کرتا ہوں پھر اس کو اپنی گردن پر اٹھا کر مسلمانوں کے بازار میں فروخت کرتااور اس کے بدلے رقم لے لیتا ہوں ۔''اس عورت نے کہا: ''ہاں!یہ حلال کی کمائی ہے اور انسان جو اپنے ہاتھ سے کماتا ہے اسے کھانا حلال ہے، لیکن اے عثمان !اگر آپ صحیح معنوں میں اپنے پالنے والے ربّ ِذوالجلال عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کریں اور اسی پر کامل بھروسہ کریں تو پہاڑوں کی بلندی سے لکڑیوں کا گٹھا اُٹھانے کی زحمت نہ کرنا پڑے گی۔''میں نے کہا: ''پھر تو میرے لئے رزق کاکوئی ظاہری سبب باقی نہ رہے گا،میں کہاں سے کھاؤں گااور کہاں سے پیؤں گا؟''اس نے کہا:''اے عثمان !کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو یہ دکھاؤں کہ میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے کیسا معاملہ اوراس پرکیسا بھروسہ کیا ہے ؟ ' '