Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
559 - 649
سبب وہ اعزازوبڑائی میں بادشاہوں سے بلندرتبہ ہوجاتے ہیں۔اوروہ اس سفرکے لئے زادِراہ حاصل کرکے شب بیداری کی سواریوں پرسوارہوجاتے ہیں ۔پھرجب ان پرسحرکی پرکیف ہوائیں چلتی ہیں تو وہ بصیرت ومنزل کوپالیتے ہیں۔

    پارسا خواتین کی شان میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
(1) فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیۡبِ بِمَا حَفِظَ اللہُ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:تو نیک بخت عورتیں اد ب والیاں ہیں، خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کاحکم دیا۔ (پ5،النسآء:34)

    حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہیں:
''فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ''
 سے مراد فرمانبردار خواتین ہیں ۔ اور
''حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ''
 سے مراد اپنے شوہر کی عدم موجودگی میں اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والیاں ہیں۔''ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد شوہر کے راز کی اس طرح حفاظت کرنے والیاں ہیں جس طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حفاظت کا حکم دیا۔
(تفسیرِ بغوی ،النسآء،تحت الآیۃ۳۴،ج۱،ص۳۳۵،بدون لفظ''ابن عباس'')
    جب کوئی عورت رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ پانے اور حصولِ ثواب کے لئے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی اور اپنے آپ کو شوہر کے لئے پاک رکھتی ہے تو اس کے لئے عزت و جنت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ  کرم پر ہو جاتی ہے۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
(2) وَ الَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ ﴿ۙ29﴾اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ﴿ۚ30﴾فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوۡنَ ﴿ۚ31﴾وَ الَّذِیۡنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَ عَہۡدِہِمْ رَاعُوۡنَ ﴿۪ۙ32﴾وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوۡنَ ﴿33﴾۪ۙوَ الَّذِیۡنَ ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ یُحَافِظُوۡنَ ﴿ؕ34﴾اُولٰٓئِکَ فِیۡ جَنّٰتٍ مُّکْرَمُوۡنَ
ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ مگر اپنی بی بیوں یا اپنے ہاتھ کے مال کنیزوں سے کہ ان پر کچھ ملامت نہیں۔ تو جو ان دو کے سوا اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں ۔اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم ہیں۔ اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں ۔یہ ہیں جن کا باغوں میں اعزاز ہوگا۔ (پ29،المعارج:29۔35)

    منقول ہے کہ'' ایک صالح شخص نے جنگل میں کسی لڑکی کو تنہا لنگڑاکر چلتے ہوئے دیکھاتو پوچھا: '' کہاں سے آئی ہو؟''اس نے جواب دیا:''محبوب کے پاس سے۔''پھر پوچھا:''کہاں جاناہے؟''جواب ملا:''محبوب کے پاس۔''اس نیک شخص نے پوچھا: '' اس جنگل میں تنہا چلتے ہوئے تمہیں وحشت محسوس نہیں ہوتی ؟'' تو اس لڑکی نے بلند آواز سے اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت کی :
(5) یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَ مَا یَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیۡہَا ؕ وَ ہُوَ مَعَکُمْ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمْ ؕ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿4﴾
ترجمۂ کنزالایمان:جانتاہے جو زمین کے اندر جاتاہے اور جو اس سے باہر نکلتاہے اور جو آسمان سے اترتاہے اور جو اس میں چڑھتا اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم کہیں ہو اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہاہے۔(پ27، الحدید:4)
Flag Counter