| حکایتیں اور نصیحتیں |
تمام خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جو اپنی ربوبیت میں معزز ہے ۔ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔ وہ اپنی ہمیشگی میں ہرعیب سے پاک ہے۔ہمیشہ سے یکتاو بے نیازہے۔اس کی ہمیشگی (والی صفت) کاکبھی ادراک نہیں کیا جاسکتا اور خیال ونظراس کے ایک ہونے کوشمار نہیں کرسکتے۔وہ مدّ ِمقابل، ہم پلہ ،بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔چنانچہ،ارشادِباری تعالیٰ ہے:
''وَّ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿3﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے نہ اس نے عورت اختیار کی اور نہ بچہ۔ ''(پ29،الجن:3) لہٰذاجس نے اسے تشبیہ دی یا اس کی مثل بتائی وہ عذاب کامستحق ہے توہرگزوہ اس کے سواپناہ نہ پائے گا۔جس نے سمندرِ توحید کے ساحل کوبھی تشبیہ اورحدمقررکرنے والی آنکھ سے دیکھا وہ انتہائی حسرت ویاس کی موت مرے گااور جس نے بار بار تعریف کرنے والی اورپاکی کااقرارکرنے والی آنکھ سے دیکھاوہ حقائق کی گہرائیوں پر مطلع ہوگااوروہ حکمتوں اورخالص حصے کو اکٹھا کر لے گا۔پس وہ عارفین ہیں جواس کی معرفت کے میدان میں کھوجاتے ہیں توانہیں سعادت مندوں والی زندگی عطاکی جاتی ہے۔ وہ خَائِفِیْن(یعنی ڈرنے والے)ہیں جواس کے غلبہ واقتدار کے قہر کی آگ سے جل جاتے ہیں تووہ شہدا ء کی موت پاتے ہیں۔ وہ مُحِبِّیْن (یعنی محبت والے)ہیں کہ راحت واطمینان ،مناجات کالباس پہنے ان کے پاس ہی گھومتے رہتے ہیں تووہ آسودہ حال زندگی گزارتے ہیں ۔
پس اگر توانہیں دیکھے گاتووہ اس حالت میں ہوں گے کہ ان پرقبولیت کے آثارواضح ہیں۔ تبدیلی نے ان کو نئے نئے کپڑے پہنادیئے ہیں۔حواس باختگی نے ان کوایسا جام پلادیاجس کے بعدوہ کسی چشمے سے میٹھاپانی طلب نہیں کرتے۔ ان کی آنکھیں آنسوبہاتی ہیں۔ دل خوف زدہ ہیں اور ان کے جگر رنج وغم سے پگھل رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن سے ان کے رب عَزَّوَجَلَّ نے رشدوہدایت کاارادہ فرمایاہے ۔انہوں نے دنیا کو یقین کی آنکھ سے دیکھاتوجان لیاکہ بے شک انسان کو یونہی بلاحساب و کتاب نہیں چھوڑدیا جائے گا۔ انہوں نے بیداری کی سماعت کوکھولے رکھاتوسنا کہ حمد ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ کے نغمے گنگنانے والا گنگنا رہاہے ۔پس انہوں نے اپنے بلانے والے (یعنی دنیاومافیہاکے سامانِ غفلت)کوچھوڑدیااوراپنے گنگنانے والے کی طرف بلند ہونا شروع کردیا۔تودلیل وبرہان(یعنی کتاب اللہ ) انہیں پکارتی ہے :''اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی0 (پ۳0، اللیل:۱۲)ترجمۂ کنزالایمان : بے شک ہدایت فرمانا ہمارے ذمہ ہے ۔''
تلاشِ حق کی راہ میں ان کاپہلاقدم یہ ہوتاہے کہ ان میں سے ناداروں کوایسی خلعت اورلباس عطاکیاجاتاہے جس کے