زمانے میں نہیں تھی۔'' انہوں نے فرمایا :''یا روح اللہ عَزَّوَجَلَّ وعلیہ السلام! میں آواز سن کرسمجھا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے، اس کے خوف سے میرے سر اورداڑھی کے بال سفید ہو گئے ۔''حضرتِ سیِّدُناعیسیٰ روح اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے پوچھا: ''تمہارے انتقال کو کتنا عرصہ ہوا؟'' انہوں نے بتایا:''چارہزار سال۔ مگر اب تک موت کی سختی او ر کڑواہٹ مجھ سے نہیں گئی۔''
اے میرے اسلامی بھائیو! جب ایک بوسیدہ ٹھکانے کی طرف لوٹ کر جاناہے تو پھریہ غفلت کیسی؟جب عمربہت قلیل ہے تو پھر یہ سستی کیونکر؟بے شک ڈر سنانے والے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تمہیں ڈر سنا چکے تو پھر گناہوں میں اپنا وقت بربادکرنے میں کیونکرمصروف ہو؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تمہارا محبوب کے دروازے سے ہٹ جانا تمہارے لئے بہت بری تدبیر ہے۔ تمہاری یہ اکڑ کب تک رہے گی ؟یاد رکھو! خدائے نگہبان سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
اے میرے اسلامی بھائیو! قیامت کو یاد کروکیونکہ قیامت کا معاملہ بہت سخت ہے۔ اپنی بقیہ عمرنیکیوں میں گزارو کہ مرنے کے بعد حسرت وندامت کوئی فائدہ نہ دے گی۔ اپنے دل وعدہ و وعید کو سمجھنے کے لئے حاضر رکھو۔اپنا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے۔ تم پر نگہبان مقرر ہے۔ موت کے لئے تیار ہو جاؤ۔ وہ تمہارے بہت قریب ہے۔ اس نے نہ آزاد لوگوں کو چھوڑاہے، نہ غلاموں کو رہنے دیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: