ترجمۂ کنزالایمان:اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتاتھا۔(پ26،قۤ:19)
یعنی موت کی سختیوں کا سامنا، ملک الموت علیہ السلام کو دیکھنا اور بندے پر اس کاجنت یا دوزخ کا ٹھکانہ ظاہر ہونا زبردست امور ہیں اور یہ سکرات موت کے وقت ظاہر ہوں گے اور یہ حق ہے، اس کو حضور نبئ مکرّم، رسولِ محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایمان بالغیب میں بیان فرمایا ہے۔ پھر اس کے بعد منکر نکیر کے سوالات کامرحلہ ہے کہ میت کوقبر میں اُتارے جانے کے بعد سب سے پہلے اسی سے دوچار ہونا پڑتاہے۔ اور موت کی سختیاں بیان ہوچکی ہیں اور یہ ہر شخص پراس کے اعمال کے مطابق ہوں گی۔
ان کو سکرات کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہوش اڑا دیتی اور ذہن کو غائب کر دیتی ہيں جیسے مدہوش نشے کی حالت میں ہوتا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ آدمی پر اس کے اچھے برے اعمال اور ان کی جزا موت کے وقت ظاہر ہوگی۔ غیبت کرنے والے کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جائے گا، غیبت سننے والے کے کانوں میں جہنم کی آگ کی سیخیں پروئی جائیں گی اور ظالم کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہرمظلوم کے پاس پہنچ جائے گا۔ حرام خور کوجہنم کا کانٹے دار درخت، زقوم کھانے کو دیا جائے گا۔ اسی طرح دیگر افعال کی جزا وسزا دی جائے گی۔ ان سب کا ظہور موت کی سختیوں کے وقت ہوگا اور میت کو یکے بعد دیگرے ان سے گزرنا ہو گا، اور آخر میں اس کی روح قبض کی جائے گی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: