| حکایتیں اور نصیحتیں |
دیکھنے میں مشغول ہوں تو تم اپنے عیوب کی تلاش میں مشغول ہوجاؤ،اور جب لوگوں کو مخلوق کی خدمت کرتے دیکھو تو تم تمام مخلوق کے پروردگار، خالق عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں کھو جاؤ۔''
اے میرے اسلامی بھائی !منادی کی نداء آنے سے پہلے اپنے نفس کوخواب ِ غفلت سے بیدار کر۔صبر کی زرہ پہن کر شیطان سے جہاد کر۔ سرکشی وگناہ کے کام چھوڑکر اپنے چھٹکارے کی تلاش کر۔ تجھ پر ایسے اعمال لازم ہیں جو قیامت میں تجھے فائدہ دیں اور عذاب سے نجات دلائیں۔
حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:''آدمی بوڑھا ہو جاتاہے مگر اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں : (۱)۔۔۔۔۔۔حرص اور (۲)۔۔۔۔۔۔لمبی امید۔''(صحیح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب کراھیۃ الحرص علی الدنیا،الحدیث۱0۴۷،ص۸۴۲)
پس حرص بھی ہلاک کردینے والی دوآفتوں میں سے ایک ہے۔
ابنِ آدم کی حرص:
شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعث ِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے: ''اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی دووادیاں بھی ہوں تب بھی یہ تیسری کی خواہش کریگا اورابنِ آدم کاپیٹ قبر کی مِٹی ہی بھر سکتی ہے۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الزکاۃ ، باب لو ان لابن آدم۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۱0۴۸،ص۸۴۲)
حضرتِ سیِّدُناابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:''رسولِ اکرم،نورِ مجسّم ، نبئ محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے میرے جسم کے کسی حصہ کو پکڑ کر ارشاد فرمایا:''دنیا میں ایک اجنبی اور مسافر کی طرح رہ اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کر۔''
(سنن ابن ماجۃ،ابواب الزھد،باب مثل الدنیا،الحدیث۴۱۱۴،ص۲۷۲۷)
اے گناہوں کے حریص! اے موت کے جھٹکوں سے غافل! (سُن!)یقینا موت اچانک آجائے گی۔ مال و گناہ کی طمع کسی عقل مند کا کام نہیں۔تو گناہوں میں جلدی کرتا اور توبہ کو آئندہ سال تک مؤخر کرتا ہے۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ غنی کا (قرض کی ادائیگی کے معاملے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے جوانی، صحت اور فراغت کی دولت سے غنی کر دیا پھر بھی تو توبہ میں ٹالَ َمَٹول کرتاہے۔ دُنیا پر بادشاہت کرنے والے ،بڑے بڑے جابر اور لیڈر کہاں چلے گئے؟ بندوں پر بڑائی چاہنے والوں کو کیا ہو گیا؟ کہا ں ہیں قاتل اورحملہ کرنے والے؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !موت کے تیران سب میں پیوست ہو گئے ،وہ اب قتل گاہوں میں پڑے ہیں۔اور موت نے اُنہیں فرش اور قالین کے بعد پچھاڑ کر پتھر کی سِل اور چٹان کے درمیان رکھ دیا۔