Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
541 - 649
اجمعین سے کہا: '' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی دعوت قبول کریں۔''سب لوگ اٹھ کر چل دیئے۔ جب میں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی کہ لوگ بہت زیادہ ہیں توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے چمڑے کے دسترخوان کو ایک رومال سے ڈھانک دیا اور ارشاد فرمایا:'' دس دس افراد کو داخل کرتے جاؤ۔''میں نے ایسا ہی کیا ۔صحا بۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کھا کر نکلتے گئے لیکن کھانے میں بالکل کمی نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی برکت سے سات سو افراد نے وہ حلوہ کھایا۔''

    اس کے بعدآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرتِ فاطمہ اورحضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اپنے پاس بلایا اورحضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم کو اپنے دائیں اورحضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو اپنے بائیں طرف بٹھا کر سینے سے لگایا اور دونوں کی آنکھوں کے درمیان پیشانی پر بوسہ دیا اور پھرحضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوحضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم کے حوالے کر دیا اور ارشاد فرمایا:'' اے علی! میں نے کتنی اچھی زوجہ سے تیرا نکاح کیا ہے۔'' پھر ان دونوں کے ساتھ ان کے گھر تک پیدل چلے۔ پھر گھر سے باہر نکل کر دروازے کے کواڑ پکڑے اور یہ دُعا فرمائی: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ تم دونوں کو اتفاق واتحاد عطا فرمائے، میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کرتا ہوں اور تم دونوں کو اس کی حفاظت میں دیتا ہوں۔ ''
شادی کی پہلی رات:
    حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے محبت بھری گفتگو کرنے لگے یہاں تک کہ جب رات کا اندھیرا چھا گیا تو وہ رونے لگیں۔ حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم نے پوچھا : '' اے تمام عورتوں کی سردار! کیاآپ خوش نہیں کہ میں آپ کا شوہر ہوں اور آپ میری بیوی ہیں؟''کہنے لگیں:'' میں کیونکر راضی نہ ہوں گی ،آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں، میں تو اپنی اس حالت و معاملے کے متعلق سوچ رہی ہوں کہ جب میری عمر بِیت جائے گی اور مجھے قبر میں داخل کردیاجائے گا، آج میرا عزت و فخر کے بستر میں داخل ہونا کل قبر میں داخل ہونے کی مانند ہے۔ آج رات ہم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر عبادت کریں گے کہ وہی عبادت کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔''اس کے بعد وہ دونوں عبادت کی جگہ کھڑے ہو کر ربّ ِقدیر عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرنے لگے۔
عبادت ہو تو ایسی:
    اے میرے اسلامی بھائیو! یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کا پختہ عزم ، خواہشات اورمقصود نہ تو دنیا اور اس کی لذات تھیں اور نہ ہی نفس کی راحت و خواہشات۔ بلکہ ان کی بلندہمتوں کی پرواز ہمیشہ باقی رہنے والے ٹھکانے کی طرف تھی۔یقینا ان کا ذکر قرآنِ پاک میں لکھ دیا گیا اور ان کو بشارت دے دی گئی:
Flag Counter