ترجمۂ کنزالایمان:اللہ تو یہی چاہتاہے اے نبی کے گھر والوکہ تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔(۱)(پ۲۲،الاحزاب:۳۳)
ان دونوں مبارک ہستیوں نے اپنی لذات کے بستر کو چھوڑ دیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہو گئے،رات قیام میں تو دن روزے کی حالت میں بسر ہوتا حتی کہ تین روز اسی طرح گزر گئے۔پھر وہ دونوں اپنے بستر پر آرام فرما ہوئے۔چوتھے دن حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل امین علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:'' اللہ تعالیٰ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو سلام بھیجتا ہے اور ارشاد فرماتاہے کہ علی اور فاطمہ نے تین دن سے نینداور بستر کو ترک کر رکھا ہے اورعبادت اور روزوں میں مصروف ہیں،تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے ارشاد فرماؤ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری وجہ سے ملائکہ پرفخر فرما رہا ہے اور یہ کہ تم دونوں بروزِ قیامت گنہگاروں کی شفاعت کرو گے۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم فورًا ان کے گھر تشریف لائے تو وہاں حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو پایا تو استفسار فرمایا: '' کس چیز نے تجھے یہاں ٹھہرایا ہے؟ حالانکہ گھر میں ایک مرد بھی موجود ہے۔'' انہوں نے عرض کی:''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! میرے ماں باپ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر قربان! جب کوئی لڑکی شادی کی پہلی رات اپنے خاوند کے پاس آتی ہے تو اسے ایک ایسی عورت کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی دیکھ بھال کرے اوراس کی ضروریات پوری کرے۔ لہٰذاحضرت سیِّدَتُنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ضروریات پوری کرنے کے لئے میں یہاں ٹھہرگئی۔'' اس پرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی چشمانِ مبارک نَم ناک ہو گئیں اوردعا فرمائی : '' اے اسماء (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)! اللہ عَزَّوَجَلَّ تیری دنیا و آخرت کی تمام حاجات پوری فرمائے ۔''