حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:'' جب ہم نے حضر تِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تذکرہ کیا توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آب دیدہ ہو گئے اور ارشاد فرمایا :'' خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی مثل کون ہو سکتا ہے؟اس نے میری اس وقت تصدیق کی جب سب نے مجھے جھٹلادیا اور اپنے مال سے میرے دین و دنیا کے معاملات میں میری امداد کی۔'' توحضرتِ سیِّدَتُنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: '' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! ہاں! واقعی حضرتِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایسی ہی تھیں مگر وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس جا چکی ہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ یقینا ہمیں ان کے ساتھ جنت میں جمع فرمائے گا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چچا زاد اور دینی بھائی حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہااپنی بیوی حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی رخصتی چاہتے ہیں۔''توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حکم فرمایا: '' اُمِّ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو بلانے کے لئے بھیج دو۔''حضرتِ اُمِّ اَیمَن رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب نکلیں اور حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنامنتظر پایا تو ان سے عرض کی:'' حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بلاوے پرلبیک کہیں۔''
حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم فرماتے ہیں:'' جب میں اُمِّ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو تمام ازواجِ مطہّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن اندر کمرے میں تشریف لے گئیں،میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سامنے سر جھکا کر بیٹھ گیاتوآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسار فرمایا:'' کیا تم اپنی زوجہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہو؟'' میں نے عرض کی:'' جی ہاں! یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! میرے ماں باپ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر قربان!'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' بڑی محبت وعزت سے، ان شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ آج رات سے تم اپنی زوجہ کے ساتھ رہا کرو گے۔'' حضرتِ سیِّدُناعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم فرماتے ہیں :'' پھر میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس سے خوشی ومسرت کی حالت میں اُٹھا۔''