| حکایتیں اور نصیحتیں |
نے تھوڑا تھوڑا کر کے وہ سامان اٹھالیااورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر کردیا ۔جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دیکھا تو رونے لگے اور آسمان کی جانب نگاہ اٹھا کر عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! ایسے لوگوں کو اپنی برکت سے نواز جن کا شعار ہی تجھ سے ڈرنا ہے۔''
حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بقیہ درہم حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے کر دیئے اور ارشاد فرمایا:'' ان دراہم کو اپنے پاس رکھو۔''پھر ایک مہینہ تک شرم و حیاء کے باعث میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر نہ ہوا۔ جب کبھی راستے میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ملاقات ہوتی توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے:'' اے علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! میں نے تمہارا نکاح اس کے ساتھ کیاہے جو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردارہے ۔''سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رُخصتی:
حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں: '' جب مہینہ گزر گیاتو میرے بھائی حضرتِ عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے:'' اے میرے بھائی! آج تک میں اتنا خوش نہیں ہوا جتنا یہ سن کر خوش ہوا کہ تمہاری شادی بنتِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہو گئی ہے،اب اگرآپ ان کو اپنے گھر بھی لے آئیں تو اس سے ہمارے دل خوش ہوں گے ۔''میں نے جواب دیا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں بھی یہی چاہتا ہوں،لیکن مجھے سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے شرم آتی ہے۔''انہوں نے کہا:'' میں اپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیں۔''لہٰذا ہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں ملاقات کے ارادے سے گھر سے نکلے تو راستے میں ہماری ملاقات آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خادمہ حضرت اُمِّ اَیمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوگئی۔ ہم نے ان سے تذکرہ کیا تو کہنے لگیں :'' ذرا انتظار کریں،ہم عورتیں اپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق بات کرتی ہیں کہ( ان معاملات میں )مردوں کی نسبت عورتوں کی باتیں زیادہ مؤثر ہوتی ہیں۔'' وہ واپس مڑکرحضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئیں اور انہیں اور پھر دوسری ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن کو ساری بات بتائی تو سب اُمّہاتُ المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن اکٹھی ہو کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرۂ مبارکہ میں حاضر ہوئیں اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چاروں طرف بیٹھ کر عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ہمارے ماں باپ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر قربان! ہم ایک اہم معاملے میں اپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس حاضر ہوئی ہیں، کاش! اگر آج حضرتِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زندہ ہوتیں تو اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں۔''