| حکایتیں اور نصیحتیں |
ایسی دائمی رحمت ہوجو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو خوش کر دے (آمین)۔'' اس کے بعد فرمایا: ''نکاح اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم پر عمل ہے اور اس نے اس کی اجازت دی ہے، رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی شہزادی حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح مجھ سے کر دیا ہے اور میری اس زرہ کو بطورِ حق مہر مقرر فرمایا ہے،میں اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس پر راضی ہیں،تم لوگ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے پوچھ لو اور گواہ بن جاؤ۔''توسب مسلمانوں نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے جوڑے میں برکت عطا فرمائے اور تمہیں اتفاق عطا فرمائے۔'' پھر حضورنبئ پاک، صاحب ِ لولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنی ازواجِ مطہّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن کے پاس تشریف لائے اور انہیں حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح پر دف بجانے کا حکم دیاتو انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس دف بجایا۔''(۱)
سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جہیز:
حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں: '' میں نے اپنی زرہ لی اور بازار میں حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چار سو درہم میں فروخت کردی۔ جب میں نے درہموں پراور انہوں نے زرہ پر قبضہ کر لیا تو مجھ سے فرمانے لگے :'' اے علی!کیا اب میں آپ سے زیادہ زرہ کا اور آپ مجھ سے زیادہ دراہم کے حق دار نہیں؟''میں نے کہا:'' کیوں نہیں۔'' تو کہنے لگے: ''پھر یہ زرہ میری طرف سے آپ کو ہدیہ ہے ۔''حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: ''میں نے زرہ اور درہم لئے اور رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کرحضرتِ سیِّدُناعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حسنِ سلوک کی خبر دی توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہیں خیر و برکت کی دعا دی اور پھرحضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر مٹھی بھر درہم انہیں دیئے اور فرمایا: ''ان دراہم کے عوض فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے لئے مناسب اشیاء خرید لاؤ۔''حضرتِ سیِّدُناسلمان فارسی اورحضرتِ سیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو خریدی ہوئی اشیاء اٹھانے میں مدد کے لئے ساتھ بھیجا۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں : مجھے حضور نبئ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے تریسٹھ (63) درہم عطا فرمائے تھے ، میں نے روئی سے بھرا ہوا موٹے کپڑے کا بستر، چمڑے کا دسترخوان ،چمڑے کاتکیہ جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے،پانی کے لئے ایک مشکیزہ اور کوزہ اور نرم اُون کا ایک پردہ خریدا۔پھر میں،حضرتِ سلمان اورحضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
1۔۔۔۔۔۔شادی میں دف بجانے کے متعلق سیدی اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت، مجدد دین وملت، الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ''دف کہ بلا جلاجل یعنی بغیر جھانجھ کا ہو اور تال سَم(یعنی سُر) کی رعایت سے نہ بجایا جائے اور بجانے والے نہ مرد ہوں نہ ذی عزت عورتیں، بلکہ کنیزیں یا ایسی کم حیثیت عورتیں۔ اور وہ غیر محلِ فتنہ میں بجائیں تو نہ صرف جائز بلکہ مستحب ومندوب ہے۔ حدیث میں مشروط دف بجانے کا حکم دیا گیا اور اس کی تمام قیود کو فتاوی شامی وغیرہ میں ذکر کر دیا گیا۔'' (فتاوی رضویہ،ج۲۱،ص۶۴۳)