(پ۳0، القدر:۳)ترجمۂ کنزالایمان: شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر۔'' (37)۔۔۔۔۔۔''اَلطَّامَّۃ''سے مراد قیامت ہے (38)۔۔۔۔۔۔ وہ درخت جس کی بارہ(12)شاخیں ہیں، ہر شاخ میں تیس (30) پتے،ہر پتے میں پانچ رنگ، دو سورج کی روشنی میں اور تین سائے میں ، تو و ہ درخت سال ہے ، بارہ مہینے اس کی بارہ شاخیں ہیں، تیس پتے تیس دن ہیں اورپانچ رنگ پانچ نمازیں ہیں،تین سائے میں یعنی مغرب، عشاء اور فجر ،دو روشنی میں یعنی ظہر اور عصر (39)۔۔۔۔۔۔ وہ ایسی چیز جس میں روح نہیں اور نہ ہی اس پر حج واجب تھا پھر بھی اس نے کعبۂ مبارکہ کا طواف کیا تو وہ حضرت سیِّدُنا نوح نجی اللہ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی کشتی ہے (40)۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار (1,24,000) انبیاء پیدا فرمائے (41)۔۔۔۔۔۔ ان میں سے تین سو تیرہ (313) رسول ہیں (42)۔۔۔۔۔۔چار اشیاء جن کا ذائقہ اور رنگ مختلف ہے مگر اصل ایک ہے تو وہ آنکھ ،ناک، منہ اور کان ہے۔آنکھ کا پانی نمکین، منہ کا پانی میٹھا، ناک کا پانی ترش اور کان کا پانی کڑوا ہوتا ہے (43)۔۔۔۔۔۔نَقِیْر ایک جھلی ہے جو گٹھلی کے اوپر ہوتی ہے (44)۔۔۔۔۔۔قِطْمِیْر انڈے کے چِھلکے کو کہتے ہیں (45)۔۔۔۔۔۔ فَتِیْل سے مراد گٹھلی کے اندر کاگُودا ہے (46)۔۔۔۔۔۔ اَلسَّبَد او ر(47)۔۔۔۔۔۔ اَللَّبَد بھیڑ اور بکری کے بالوں کو کہتے ہیں۔ (48)۔۔۔۔۔۔اَلطِّمّ اور (49)۔۔۔۔۔۔اَلرِّمّ ہمارے باپ حضرت سیِّدُنا آدم صفی اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ و السلام سے پہلے کی جنات قومیں ہیں (50) ۔۔۔۔۔۔گدھا جب شیطا ن کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ(ناجائز) ٹیکس لینے والے پر لعنت فرمائے۔'' (51)۔۔۔۔۔۔کتا اپنے بھونکنے میں کہتا ہے،''
وَیْلٌ لِاَھْلِ النَّارِ مِنْ غَضَبِ الجَبَّارِ
یعنی دوزخیوں کے لئے ہلاکت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب میں ہیں۔'' (52)۔۔۔۔۔۔ بیل اپنے ڈکرانے میں کہتا ہے :
''سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ۔''
(53)۔۔۔۔۔۔ گھوڑا اپنے ہنہنانے میں کہتا ہے: ''پاک ہے میری حفاظت فرمانے والا جب جنگجو لڑتے ہیں اور مردانِ کار لڑا ئی میں مصروف ہوتے ہیں۔'' (54)۔۔۔۔۔۔ اونٹ اپنے بلبلانے میں کہتا ہے: ''
حَسْبِیَ اللہُ وَکَفٰی بِہٖ وَکِیْلًا
یعنی میرے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کافی اوروہی میراکارساز ہے۔'' (55)۔۔۔۔۔۔ مور اپنی چیخ وپکار میں کہتا ہے: ''
اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی ﴿۵﴾
(پ۱۶، طٰہٰ: ۵) ترجمۂ کنز الایمان: وہ بڑی مہروالا اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔'' (56)۔۔۔۔۔۔ تیتر اپنی سیٹی میں کہتا ہے، ''
بِالشُّکْرِ تَدُوْمُ النِّعَمُ