| حکایتیں اور نصیحتیں |
کے بطن سے تو وہ حضرت سیِّدُنا آدم علیہ السلام ، حضرت سیِّدَتُنا حوا رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت سیِّدُنا اسماعیل علیہ السلام کا مینڈھا اور حضرت سیِّدُناصالح علیہ السلام کی اونٹنی ہیں (26)۔۔۔۔۔۔ زمین پر سب سے پہلا خون ہابیل کا بہایا گیا جب قابیل نے اسے قتل کیا (27)۔۔۔۔۔۔ایسی چیز جس کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے پیدا کیا پھر خرید لیا تو وہ مؤمن کی جان ہے۔ جیسا کہ وہ خود ارشاد فرماتا ہے : ''
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''راہِ خدا میں جان و مال خرچ کرکے جنت پانے والے ایمان داروں کی ایک تمثیل ہے جس سے کمالِ لطف و کرم کا اظہار ہوتا ہے کہ پروردگارِ عالم نے انہیں جنّت عطا فرمانا اُن کے جان و مال کا عوض قرار دیا اور اپنے آپ کو خریدا ر فرمایا۔ یہ کمال عزّت افزائی ہے کہ و ہ ہمارا خریدار بنے اور ہم سے خریدے کس چیز کو جو نہ ہماری بنائی ہوئی نہ ہماری پیدا کی ہوئی۔ جان ہے تو اس کی پیدا کی ہوئی، مال ہے تو اس کا عطا فرمایا ہوا۔ شانِ نزول: جب انصار نے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم سے شب ِعقبہ بیعت کی تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یارسول اللہ! اپنے رب کے لئے اور اپنے لئے کچھ شرط فرمالیجئے جو آپ چاہیں۔ فرمایا: میں اپنے رب کے لئے تو یہ شرط کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے لئے یہ کہ جن چیزوں سے تم اپنے جان و مال کو بچاتے اور محفوظ رکھتے ہو اس کو میرے لئے بھی گوارا نہ کرو۔'' انہوں نے عرض کیا کہ '' ہم ایسا کریں تو ہمیں کیا ملے گا؟'' فرمایا: '' جنّت۔'' 2۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' مدعا یہ ہے کہ شور مچانا اور آواز بلند کرنا مکروہ و ناپسندیدہ ہے اور اس میں کچھ فضیلت نہیں ہے گدھے کی آواز باوجود بلند ہونے کے مکروہ اور وحشت انگیز ہے نبئ کریم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کو نرم آواز سے کلام کرنا پسند تھا اور سخت آواز سے بولنے کو ناپسند رکھتے تھے ۔ '' 3۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''اس سوال کی حکمت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے عصا کو دیکھ لیں اور یہ بات قلب میں خوب راسخ ہوجائے کہ یہ عصا ہے تاکہ جس وقت وہ سانپ کی شکل میں ہو تو آپ کی خاطر مبارک پر کوئی پریشانی نہ ہو یا یہ حکمت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مانوس کیا جائے تاکہ ہیبتِ مکالمت کا اثر کم ہو۔''(مدارک وغیرہ) اس عصا میں اُوپر کی جانب دو شاخیں تھیں اور اس کا نام''نبعہ'' تھا۔''
اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمْ وَ اَمْوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ
(پ۱۱، التوبۃ:۱۱۱)ترجمۂ کنزالایمان:بے شک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنت ہے۔''(۱) (28)۔۔۔۔۔۔ایسی شئے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے پیدا کیا اور ناپسند کیا تو وہ گدھے کی آواز ہے۔ جیسا کہ وہ خود ارشاد فرماتا ہے :''
اِنَّ اَنۡکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیۡرِ ﴿٪۱۹﴾
(پ۲۱،لقمان:۱۹) ترجمۂ کنزالایمان:بے شک سب آوازوں میں بری آواز،آواز گدھے کی۔''(۲) (29)۔۔۔۔۔۔ایسی چیز جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے پیدا کیا اوراسے بڑاکہا تو وہ عورتوں کا مکر ہے۔ چنانچہ، ارشاد فرمایا :''
اِنَّ کَیۡدَکُنَّ عَظِیۡمٌ ﴿۲۸﴾
(پ۱۲، یوسف: ۲۸)ترجمۂ کنزالایمان:بے شک تمہارا چرتّر (فريب) بڑا ہے۔'' (30)۔۔۔۔۔۔وہ چیز جسےاللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پھر اس کے متعلق سوال کیا تو وہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ الصلٰوۃ والسلامکا عصا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک فرماتا ہے: ''
وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۱۷﴾قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَلِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی ﴿۱۸﴾
(پ۱۶،طٰہ: ۱۷۔۱۸)ترجمۂ کنزالایمان:اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیاہے اے موسیٰ! عرض کی یہ میرا عصا ہے، میں اس پر تکیہ لگاتاہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں۔''(۳) (31)۔۔۔۔۔۔ سب سے افضل عورتیں اُمُّ البشر حضر ت سیِّدَتُنا