| حکایتیں اور نصیحتیں |
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرنے سے نعمتیں ہمیشہ رہتی ہیں۔'' (57)۔۔۔۔۔۔ بلبل اپنے نغموں میں یوں گویا ہوتا ہے:''
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیرِ خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''پاکی بولنے سے یا تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح وثناء مراد ہے اور اس کی احادیث میں بہت فضیلتیں وارد ہیں یا اس سے نماز مراد ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کیاپنجگانہ نمازوں کا بیان قرآنِ پاک میں ہے؟'' فرمایا:'' ہاں۔'' اور یہ آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا کہ ان میں پانچوں نمازیں اور اُن کے اوقات مذکور ہیں۔''
فَسُبْحٰنَ اللہِ حِیۡنَ تُمْسُوۡنَ وَ حِیۡنَ تُصْبِحُوۡنَ ﴿۱۷﴾
(پ۲۱،الروم:۱۷) ترجمۂ کنزالایمان: تو اللہ کی پاکی بولو جب شام کرواور جب صبح ہو۔'' (۱) (58)۔۔۔۔۔۔ مینڈک اپنی تسبیح میں کہتاہے: ''
سُبْحَانَ الْمَعْبُوْدِ فِی الْبَرَارِیْ وَالْقِفَارِ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْجَبَّارِ
یعنی پاک ہے جنگلوں اور چٹیل میدانوں میں عظیم معبود، پاک ہے خدائے جبّار۔'' (59)۔۔۔۔۔۔ نا قوس اپنی آواز میں کہتا ہے:''اللہ عَزَّوَجَلَّ پاک ہے،وہ حق ہے، اے ابن آدم!اس دنیا کے مشرق و مغرب میں دیکھ! کسی کو ہمیشہ باقی رہنے والا نہ پائے گا۔''(60)۔۔۔۔۔۔ ایسی مخلوق جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے الہام فرمایا، وہ جنوں میں سے ہے، نہ انسانوں میں سے اورنہ ہی ملائکہ میں سے تو وہ شہد کی مکھی ہے۔چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ''
وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیۡ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوۡتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُوۡنَ ﴿ۙ۶۸﴾
(پ۱۴ ، النحل :۶۸) ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو اِلہام کیا کہ پہاڑوں میں گھر بنااوردرختوں اور چھتوں میں۔'' (61)۔۔۔۔۔۔ جب دن آتا ہے تو رات کہاں جاتی ہے؟ اور (62)۔۔۔۔۔۔ جب رات چھا جاتی ہے تودن کہاں چلاجاتاہے ؟ یہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پوشیدہ علم میں ہے، کسی نبی یا مقرّب فرشتے پر بھی ظاہر نہیں۔
مذکورہ تمام جوابات دینے کے بعدحضرت سیِّدُنا ابویزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّوْرَانِی نے پوچھا:''کیاتمہارا کوئی سوال باقی ہے؟'' انہوں نے کہا : ''نہیں۔'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بڑے پادری سے فرمایا:بتاؤ'' آسمانوں اور جنت کی چابی کیا ہے؟'' ان کابڑا پادری خاموش رہا تو سب نے اسے کہا:''آپ نے اتنے سوال پوچھے اور انہوں نے سب کے جواب دئيے ،اب انہوں نے ایک ہی سوال کیا اور آپ جواب دینے سے عاجز آگئے۔'' پادری نے کہا:''میں عاجز نہیں آیالیکن مجھے ڈر ہے کہ میں جواب دوں گا تو تم تسلیم نہیں کرو گے۔''انہوں نے کہا:''کیوں نہیں، ہم مانیں گے، کیونکہ آپ ہمارے بزرگ ہیں،آپ جو بھی فرمائیں گے ہم سرِ تسلیم خم کریں گے۔'' تو بڑے پادری نے کہا:''آسمانوں اور جنت کی چابی کلمۂ طیبہ''لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ''
ہے۔'' جب دیگر پادریوں اور راہبوں نے سنا تو وہ سب کے سب مسلمان ہو گئے۔انہوں نے گرجا گھر توڑ کر اسے مسجد میں تبدیل کر دیاور اپنے اپنے زنار بھی تو ڑ دئیے۔ حضرت سیِّدُنا ابویزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّوْرَانِی کو غیب سے آواز آئی :''اے ابو یزید !تو نے ہمارے لئے ایک زنّار باندھا توہم نے تیری خاطر پانچ سو زنار توڑ دئیے۔''