Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
526 - 649
بولے یہودی کچھ نہیں۔'' (۱)(پ۱،البقرۃ:۱۱۳) انہوں نے سچ کہا لیکن جہنم میں داخل کر دئیے گئے۔ (16)۔۔۔۔۔۔تمہارے جسم میں تمہارے نام کا ٹھکانہ کان ہیں (یعنی جب کوئی نام بولاجاتا ہے توکان ہی سنتے ہے) (17)۔۔۔۔۔۔ ''
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' شانِ نزول: نجران کے نصاریٰ کا وفد سید عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں آیا تو علمائے یہود آئے اور دونوں میں مناظرہ شروع ہوگیا۔ آوازیں بلند ہوئیں، شور مچا۔ یہود نے کہا کہ نصاریٰ کا دین کچھ نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل شریف کا انکار کیا۔ اسی طرح نصاریٰ نے یہود سے کہا کہ تمہارا دین کچھ نہیں اور توریت شریف و حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا۔ اس باب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔''

2 ۔۔۔۔۔۔ان چار ہواؤں کے نام یہ ہیں :(1)۔۔۔۔۔۔پُروَا یعنی مشرق سے مغرب کی طرف چلنے والی ہوا(2)۔۔۔۔۔۔پَچْھوَا یعنی مغرب سے مشرق کی طرف چلنے والی ہوا (3)۔۔۔۔۔۔جنوبی یعنی جنوب سے شمال کی طرف چلنے والی ہوا اور(4)۔۔۔۔۔۔شمالی یعنی شمال سے جنوب کی طرف چلنے والی ہوا۔ نیز حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، ''ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں۔ ان میں چار باعث ِ رحمت ہیں:(۱)۔۔۔۔۔۔اَلنَّاشِرَات:بادلوں کو اٹھانے اور اڑانے والی ہوائیں (۲)۔۔۔۔۔۔اَلْمُبَشِّرَات:بارش کی خبر دینے والی ہوائیں (۳)۔۔۔۔۔۔اَلذّٰرِیَات:خاک وغیرہ اڑانے والی ہوائیں اور (۴)۔۔۔۔۔۔اَلْمُرْسَلَات:مسلسل چلنے والی ہوائیں۔ اور چار باعث زحمت ہیں: (۱)۔۔۔۔۔۔اَلْعَاصِفَات:تیز ہوائیں آندھیاں(۲)۔۔۔۔۔۔اَلْقَاصِب:زوردار گرج والی ہوائیں،یہ دونوں تری میں چلتی ہیں (۳)اَلصَّرْصَر:انتہائی سرد برفیلی ہوائیں یا شدیدآواز والی ہوائیں اور (۴)۔۔۔۔۔۔اَلْعَقِیْم:بے بارش ہوا۔ آخری دونوں ہوائیں خشکی میں چلتی ہیں۔''

(الموسوعۃ لابن ابی الدنیا ،کتاب المطر والرعد والبرق والریح ،باب فی الریح ،الحدیث:۱۷۴،ج۸،ص۴۵۱)
وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا
'' (یعنی بکھیر کر اڑانے والیاں) سے مراد چار ہوائیں ہیں۔(۲) (18)۔۔۔۔۔۔ ''
اَلْحٰمِلٰتِ وِقْرًا
''سے مراد بادل ہیں۔ جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : ''
وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرْضِ
 (پ۲،البقرۃ:۱۶۴)ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باند ھا ہے۔'' 

(19) ۔۔۔۔۔۔
اَلْجٰرِیٰتِ یُسْرًا
 (یعنی نرم چلنے والیاں) سے مراد دریا میں چلنے والی کشتیاں ہیں (20)۔۔۔۔۔۔ ''
فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا
''سے مراد ملائکہ ہیں جو لوگوں کا رزق پندرہ شعبان سے دوسرے سال پندرہ شعبان تک تقسیم کرتے ہیں(21)۔۔۔۔۔۔جن چودہ نے ربُ العٰلمین عَزَّوَجَلَّ سے کلام کیاتو وہ سات آسمان اور سات زمینیں ہیں۔چنانچہ ، ربّ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:''
فَقَالَ لَہَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْہًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ ﴿۱۱﴾
(پ۲۴،حٰمۤ السجدہ:۱۱) ترجمۂ کنز الایمان:تو اس(آسمان) سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے ،دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے۔'' (22)۔۔۔۔۔۔وہ قبر جو صاحبِ قبر کو ساتھ لے کر چلی تو وہ حضرت سیِّدُنا یونس علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی مچھلی ہے (23)۔۔۔۔۔۔جو چیز بلاروح ہے مگر سانس لیتی ہے تو وہ صبح ہے ۔ جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :''
وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ ﴿ۙ۱۸﴾
 (پ۳0، التکویر: ۱۸)ترجمۂ کنز الایمان: اور صبح کی جب دم لے۔'' (24)۔۔۔۔۔۔وہ پانی جو آسمان سے اُترا، نہ زمین سے نکلا تو وہ گھوڑوں کا پسینہ ہے جس کو شیشے کی بوتل میں بھر کر ملکۂ بلقیس نے حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داؤدعلیہما الصلٰوۃو السّلام کو بھیجا تھا (25)۔۔۔۔۔۔ وہ چار نفوس جو باپ کی پشت سے پیدا ہوئے، نہ ماں
Flag Counter