| حکایتیں اور نصیحتیں |
زمین میں فساد کرتے اور سنوارنہ چاہتے۔'' (پ۱۹،النمل:۴۸) (10)۔۔۔۔۔۔ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ (یعنی مکمل دس دن) سے مراد وہ دس دن ہیں جن میں حجِ تمتُّع کرنے والا ہَدِی کا جانور نہ پانے کی صورت میں روزے رکھتاہے۔ چنانچہ، رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ؕ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اورسات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے۔ (11)(پ۲،البقرہ:۱۹۶) ۔۔۔۔۔۔وہ گیارہ جن کا بارہواں نہیں تو وہ حضرت سیِّدُنا یوسف علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃو السلام کے بھائی ہیں ۔ چنانچہ، اللہ تعالیٰ حضرت سیِّدُنا یوسف علیہ السلام کا قول حکایت کرتے ہوئے ارشادفرماتا ہے:
''اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَکَوْکَبًا
ترجمۂ کنزالایمان: میں نے گیارہ تارے دیکھے۔'' (۱) (12) (پ۱۲، یوسف: ۴) ۔۔۔۔۔۔وہ بارہ جن کا تیرہواں نہیں تو وہ مہینوں کی تعداد ہے۔ چنانچہ،رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
''اِنَّ عِدَّۃَ ا لشُّھُوْرِ عِنْدَ اللہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتٰبِ اللہِ
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں۔'' (13) (پ۱0، التوبۃ:۳۶) ۔۔۔۔۔۔وہ تیرہ جن کا چودہواں نہیں تو وہ حضر ت سیِّدُنا یوسف علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کا خواب ہے۔ جیسا کہ ربّ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
'' اِنِّیۡ رَاَیۡتُ اَحَدَ عَشَرَکَوْکَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَیۡتُہُمْ لِیۡ سٰجِدِیۡنَ ﴿۴﴾
ترجمۂ کنزالایمان: میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لئے سجدہ کرتے دیکھا۔(14)(پ۱۲،یوسف:۴) ۔۔۔۔۔۔وہ قوم جنہوں نے جھوٹ بولا پھر بھی جنت میں داخل کر دئیے گئے تو وہ حضرت سیِّدُنا یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بھائی ہیں۔ جیسا کہ ربّ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
''قَالُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَہَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَکْنَا یُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئْبُ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:بولے اے ہمارے باپ! ہم دوڑ کرتے نکل گئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔''(پ۱۲،یوسف:۱۷) انہوں نے جھوٹ بولا پھر بھی جنت میں داخل کر دئیے گئے۔ (15)۔۔۔۔۔۔وہ قوم جنہوں نے سچ بولالیکن جہنم میں داخل کر دئیے گئے تو وہ یہودونصاریٰ ہیں۔ اور وہ ان کا یہ قول ہے:
''وَقَالَتِ الْیَہُوۡدُ لَیۡسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیۡءٍ ۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰی لَیۡسَتِ الْیَہُوۡدُ عَلٰی شَیۡءٍ ۙ
ترجمۂ کنزالایمان:اور یہود ی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : '' حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے خواب دیکھا کہ آسمان سے گیارہ ستارے اُترے اور ان کے ساتھ سورج اور چاند بھی ہیں، ان سب نے آپ کو سجدہ کیا۔ یہ خواب شب ِ جمعہ کو دیکھا، یہ رات شبِ قدر تھی۔ ستاروں کی تعبیرآپ کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج آپ کے والد اور چاند آپ کی والدہ یا خالہ۔ آپ کی والدۂ ماجدہ کا نام راحیل ہے۔ سدی کا قول ہے کہ چونکہ راحیل کا انتقال ہوچکا تھا اس لئے قمر سے آپ کی خالہ مراد ہیں اور سجدہ کرنے سے تواضع کرنا اور مطیع ہونا مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ حقیقتاً سجدہ مراد ہے کیونکہ اس زمانہ میں سلام کی طرح سجدۂ تحیّت تھا۔حضرت یوسف علیہ السلام کی عمرشریف اس وقت بارہ سال کی تھی اور سات اور سترہ کے قول بھی آئے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام سے بہت زیادہ محبت تھی۔اس لئے ان کے ساتھ ان کے بھائی حسد کرتے تھے اور حضرت یعقوب علیہ السلام اس پر مطلع تھے اس لئے جب حضرت یوسف علیہ السلامنے یہ خواب دیکھا تو حضرت یعقوب علیہ ا لسلام نے کہا:اے میرے بچے! اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا۔''