| حکایتیں اور نصیحتیں |
مینڈک اپنی تسبیح میں کیا کہتا ہے؟ (59)۔۔۔۔۔۔ ناقوس (نصارٰی کا گھنٹہ جسے وہ اپنی عبادت کے وقت بجاتے ہیں) اپنی آواز میں کیا کہتا ہے؟ (60)۔۔۔۔۔۔ایسی مخلوق کے متعلق بتاؤجنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے الہام فرمایا وہ جِنّوں میں سے ہے ،نہ انسانوں میں سے اور نہ ہی فرشتوں میں سے؟ (61)۔۔۔۔۔۔ جب دن نکلتاہے تورات کہاں چلی جاتی ہے اور (62)۔۔۔۔۔۔ جب رات چھا جاتی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے ؟''
حضرت سیِّدُناابویزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّوْرَانِی نے پوچھا :''کیاان کے علاوہ بھی کوئی سوال ہے ؟'' تو سب پادریوں نے کہا: ''نہیں ۔'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:'' اگر میں نے ان کے جوابات صحیح طور پر دے دئیے تو کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر ایمان لے آؤ گے؟'' سب نے کہا:''جی ہاں۔''تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی :''یااللہ عَزَّوَجَلَّ!تو ان کی باتوں پر گواہ ہے۔''پھر فرمایا: ''اب اپنے سوالات کے جوابات سنتے جاؤ: (1)۔۔۔۔۔۔ وہ ایک جس کا دوسرا نہیں تو وہ اللہ واحد قہار ہے(2)۔۔۔۔۔۔ وہ دوجن کا تیسرانہیں تو وہ دن اور رات ہیں۔ جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:''1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' حدیث شریف میں ہے کہ حاملینِ عرش آج کل چار ہیں، روزِ قیامت اُن کی تائید کیلئے چار کا اور اضافہ کیا جائے گا آٹھ ہوجائیں گے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اس سے ملائکہ کی آٹھ صفیں مراد ہیں، جن کی تعداد اللہ تعالیٰ ہی جانے۔''
وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ اٰیَتَیْنِ
(پ۱۵،بنی اسرائیل:۱۲)ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے رات اور دن کو دونشانیاں بنایا۔''(3)۔۔۔۔۔۔وہ تین جن کا چوتھانہیں تو وہ عرش، کرسی اور قلم ہیں(4)۔۔۔۔۔۔وہ چارجن کا پانچواں نہیں تو وہ آسمانی کتابیں'' تورات،انجیل ،زبور اور قرآنِ پاک'' ہیں(5)۔۔۔۔۔۔وہ پانچ جن کا چھٹا نہیں تو وہ پانچ نمازیں ہیں جو ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہیں(6)۔۔۔۔۔۔وہ چھ جن کا ساتواں نہیں تو وہ چھ دن ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ذکر قرآنِ پاک میں فرماتا ہے:''
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ
(پ۲۶،ق:۳۸) ترجمۂ کنزالایمان:اور بے شک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا۔'' (7)۔۔۔۔۔۔وہ سات جن کا آٹھواں نہیں تو وہ سات آسمان ہیں۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:''
سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ
(پ۲۹،الملک:۳) ترجمۂ کنزالایمان:سات آسمان ایک کے اوپر دوسرا۔'' (8)۔۔۔۔۔۔وہ آٹھ جن کا نواں نہیں تو وہ عرش اٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں۔جیساکہ قرآنِ پاک میں ہے : ''
وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَہُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ ﴿ؕ۱۷﴾
(پ۲۹،الحاقہ:۱۷)ترجمۂ کنزالایمان:اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔''(۱) (9)۔۔۔۔۔۔وہ نوجن کادسواں نہیں تو وہ نو افراد کی جماعت تھی جو فساد برپا کرنے والے تھے۔ چنانچہ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ''
وَکَانَ فِی الْمَدِیۡنَۃِ تِسْعَۃُ رَہۡطٍ یُّفْسِدُوۡنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوۡنَ ﴿۴۸﴾
(پ۱۹،النمل:۴۸)ترجمۂ کنزالایمان:اور شہر میں نو شخص تھے کہ