چلیں تا کہ ہم آپ کووہ نعمتیں دکھائیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے لئے تیار کر رکھی ہیں۔''حضرت سیِّدُناسعید بن حرث علیہ رحمۃ الرّب فرماتے ہیں: ''میں ان کے ساتھ چل دیا، انہوں نے مجھے میدانِ حشر سے غائب کردیا تو اچانک ایک خوبصورت گھوڑا ہمارے سامنے تھا جو دنیوی گھوڑوں جیسا نہ تھا بلکہ اُچکنے والی بجلی کی مانند یا تیزچلنے والی ہوا کی طرح تھا۔ ہم اس پر سوار ہوکر چل پڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے بلند محل کے پاس جا پہنچے جس کا کنارہ دکھائی نہ دیتا تھا۔وہ چاندی سے جَڑاہوا تھا اور اس سے روشنی جھلک رہی تھی۔ جب ہم اس کے دروازے پر پہنچے تووہ خود بخود کھل گیا۔ہم اندر داخل ہوئے تو وہاں ایسی اشیاء دیکھیں جن کی نہ کوئی تعریف بیان کر سکتا ہے اور نہ کسی انسانی دل پر اس کا کھٹکا گزراہوگا۔ اس میں حوریں تھیں، ستاروں کی گنتی کے برابر خُدّام اور غلام بھی تھے۔ انہوں نے ہمیں دیکھا تو سریلی آواز میں یہ نغمے الاپنے لگے :''اَھْلًا وَّ سَھْلًا مَرْحَبًا،یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کاولی تشریف لایا ہے۔''
ہم چلتے چلتے ایک ایسے اجتماع میں پہنچے جہاں ہیرے جواہرات سے آراستہ سونے کے تخت بچھے ہوئے تھے اور اردگرد سونے کی کرسیوں کا گھیرا تھا۔ہر تخت پرایک ایسی خوبصورت خاتون بیٹھی تھی جس کا وصف کوئی مخلوق نہ بیان کر سکے،اور ان کے بیچ میں ایک ایسی عورت جلوہ فرما تھی جو قدوقامت حسن وجمال اور وصف ِ کمال میں ان سب سے برترتھی۔یہاں پہنچ کر میرے ساتھ والے دونوں مرد یہ کہہ کر غائب ہوگئے کہ''یہ آپ کا گھر، خاندان اور آرام گاہ ہے۔''
ان کے جانے کے بعدوہ خوبصورت عورتیں ''مرحبا، خوش آمدید ''کہتے ہوئے میری طرف ایسے بڑھیں جیسے کوئی غائب جب اپنے اہل میں واپس آتا ہے تو اس کے گھر والے اس کی طر ف لپکتے ہیں۔کچھ دیر کے بعد انہوں نے مجھے درمیانے تخت پر بیٹھی عورت کے پاس بٹھادیا اور کہا:''یہ آپ کی بیوی ہے اور آپ کے لئے اس جیسی اور بھی حوریں ہیں،وہ سب آپ کی منتظر ہیں۔'' ہم نے آپس میں گفتگو کی تو میں نے پوچھا:''میں کہاں ہوں؟'' اس نے جواب دیا:''جنت المأویٰ میں۔''میں نے پوچھا: ''تم کون ہو؟'' جواب دیا:''میں آپ کی ہمیشہ رہنے والی بیوی ہوں۔''میں نے پوچھا:''دوسری کہاں ہیں؟''اس نے کہا: ''وہ آپ کے دوسرے محلات میں ہیں۔''میں نے کہا:''میں اج آپ کے پاس ٹھہروں گا اور کل ان کے پاس جاؤں گا۔'' پھر میں نے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو اس نے نرمی سے میرا ہاتھ روک لیا اور کہا: ''آج تو آپ دنیا کی طرف لوٹ جائیں گے اور تین دن بعد آئیں گے۔'' میں نے کہا:''میں دنیا کی طرف لوٹنا پسند نہیں کرتا ۔''تو اس نے کہا:''آپ کا دنیا میں لوٹنا ضروری ہے اور تین دن بعد آپ ہمارے ہاں افطار کریں گے۔''پھر میں اس مبارک اجتماع سے اٹھا اوروہ مجھے رخصت کرنے اٹھی تو میری آنکھ کھل گئی ۔'' حضرت سیِّدُناہشام رحمۃ اللہ السلام فرماتے ہیں:''یہ سن کرمیں رونے لگا اور ان سے کہا:''اے سعید ! آپ کو مبارک ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیجئے، اس نے آپ کے عمل کا ثواب دکھا دیاہے ۔''انہوں نے دریافت فرمایا: ''کیا جو آپ نے دیکھا وہ