Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
519 - 649
کسی اور نے بھی دیکھا ہے ؟''تو میں نے کہا:'' نہیں۔'' اس پر انہوں نے فرمایا:''میں آپ کو قسم دیتاہوں کہ جب تک میری زندگی ہے اس بات کو چھپائیں گے۔''پھر وہ کھڑے ہوئے ،وضو کیا، خوشبو لگائی اور اپنے ہتھیار اٹھا کر میدانِ جنگ میں پہنچ گئے۔وہ روزے سے تھے اور رات تک لڑتے رہے پھر واپس آئے۔ لوگ ان کی لڑائی کے متعلق گفتگو کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ''ہم نے ایسا لڑنے والا نہیں دیکھا،یہ تو اپنی جان کو دشمنوں کے تیروں اور نیزوں کے آگے ڈال دیتے ہیں، اور ہر بار وہ پسپا ہوئے۔'' تو میں نے دل میں کہا:''اگر یہ ان کا مرتبہ دیکھ لیتے تو ان جیسا ہی کرتے'' پھرآخر رات تک قیام کی حالت میں رہے اور صبح روزے کی حالت میں کی اور دوسرے دن پہلے دن سے زیادہ لڑے اور پھر رات کو قیام کیا۔ صبح پھر روزے کی حالت میں تھے اور پہلے سے بھی زیادہ قتال کیا۔ حضرت سیِّدُنا ابوالولید علیہ رحمۃ اللہ الوحید فرماتے ہیں:''میں ان کے ساتھ ہو لیا تاکہ دیکھوں کہ وہ کیا کرتے ہیں تومیں نے دیکھاکہ وہ پورا دن اپنی جان کو ہلاکتوں میں ڈالے رہے لیکن انہیں کوئی نقصان نہ ہوا۔ بالآخر غروبِ آفتاب کے وقت ایک تیران کے گلے میں آلگا جس کے سبب وہ زمین پر تشریف لے آئے۔میں انہیں کو دیکھ رہا تھا کہ لوگ چیخ وپکار کرتے ہوئے تیزی کے ساتھ ان کی طرف بڑھے اورانہیں میدانِ کار زار سے باہراٹھا لائے۔ جب میں نے ان کو دیکھا تو کہا: ''اے سعید! آپ کو مبارک ہو کہ آج آپ جنت میں روزہ افطار کریں گے ، کاش! میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا۔'' راوی فرماتے ہیں: '' انہوں نے اپنے نچلے ہونٹوں کو حرکت دی اور مسکراتے ہوئے کہا:''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَّقَنَا وَعْدَہٗیعنی سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورافرمایا۔'' پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ہو گیا۔ حضرت سیِّدُناہشام علیہ رحمۃ اللہ السلام کہتے ہیں: ''میں نے بآوازِ بلند کہا:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو!
 (1) لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوۡنَ ﴿61﴾
ترجمۂ کنزالایمان:ایسی ہی بات کے لئے کامیوں کوکام کرناچاہيے۔(پ23، الصّٰفّٰت:61)

    میری بات سنو! میں تمہیں تمہارے اس بھائی کے متعلق بتاؤں ۔''لوگ متوجہ ہوئے تو میں نے انہیں سارا معاملہ بتایا تو وہ رونے لگے پھر انہوں نے تکبیر کہی جس سے پورا لشکر دہل گیا اور یہ بات پھیل گئی۔ امیرِ لشکر حضرت سیِّدُنامسلمہ علیہ رحمۃ اللہ کو معلوم ہوا تو وہ خود تشریف لائے اور ہم نے ان کی میت کو رکھا تاکہ نمازِ جنازہ پڑھیں۔میں نے امیرِ لشکر حضرت سیِّدُنا مسلمہ علیہ رحمۃ اللہ سے عرض کی: ''آپ ان کی نمازِجنازہ پڑھائیں۔''انہوں نے فرمایا:''ان کی نمازِ جنازہ وہ پڑھائے جو ان کی حالت کے متعلق جانتا ہو۔'' پھر ہم نے ان کی نمازِ جنازہ اد اکی اور ان کو اسی جگہ دفن کر دیا۔لوگ رات کو یہی گفتگو کرتے ہوئے سو گئے۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے اس واقعہ کا دوبارہ ذکر کیا تو لوگ یکبارگی چِلّا اُٹھے اور دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ چنانچہ ،اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی برکت سے اسی دن قلعے پر فتح عطا فرمائی۔ (اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین)
Flag Counter