Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
517 - 649
مجھے اس سے نفع دیا، اُمیدہے تمہیں بھی اس سے نفع ہو گا۔'' میں نے کہا:''اے ابوالولید! مجھے بیان کیجئے۔''تو انہوں نے بیان فرمایا: ''ہم نے سَن 88 ہجری میں روم کی سرزمین پرجہادکیا۔ ہمارے ساتھ سعیدبن حرث نامی ایک نیک شخص تھا، وہ کثر ت سے عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کرتا، دن کو روزہ رکھتا، رات کوعبادت کرتا۔جب ہم چلتے تو وہ قرآنِ پاک کی تلاوت کرتا۔ جب ٹھہرتے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتا۔ پھرایک رات ایسی آئی کہ ہم سخت خوف میں مبتلاہوگئے۔ میں اور ایاس پہرہ داری کے لئے نکلے، ہم ایک ایسے قلعے کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جس کا معاملہ ہم پر سخت دشوار ہوچکا تھا۔میں نے حضرت سیِّدُناسعید بن حرث علیہ رحمۃ الرّب کو اس رات بھی عبادت میں مشغول پایااور مصائب پراس کے صبر کرنے سے مجھے بہت تعجب ہوا۔جب صبح طلوع ہوئی تو میں نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، آپ پر نفس کا بھی کچھ حق ہے، آپ آرام کیوں نہیں فرماتے ؟''تووہ رودئیے اور فرمایا: ''اے میرے بھائی!یہ سانسیں شمار کی جاچکی ہیں، عمر گھٹ رہی ہے،دن پورے ہوچکے ہیں،میرے پیچھے مو ت ہے اور مجھے اپنی رُوح نکلنے کا انتظار ہے۔''

     راوی فرماتے ہیں:''اس بات نے مجھے رُلادیا۔ میں نے ان سے کہا:''میں اپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دیتاہوں کہ آپ خیمے میں داخل ہوکر آرام فرمائیں۔''جب میں خیمے میں داخل ہوا تو وہ سو چکے تھے ۔میں خیمے کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک اندر سے باتوں کی آواز سنائی دی تو میں نے دل میں کہا :'' خیمے میں ان کے سوااور تو کوئی نہیں۔''بہرحال میں کچھ آگے بڑھا تو دیکھاکہ وہ نیند میں مسکرا رہے ہیں اور کسی سے باتیں کر رہے ہیں۔میں نے ان کی ایک بات یاد کرلی اوروہ یہ کہہ رہے تھے: ''میں لوٹنا نہیں چاہتا ۔'' پھر انہوں نے اپنادایاں ہاتھ بلند کیاگویا کچھ ڈھونڈھ رہے ہوں۔ پھر ہنستے ہوئے آہستگی سے نیچے کر لیا۔ اور ہانپتے ہوئے بیدار ہو گئے۔میں نے ان کو سینے سے لگا لیا تو انہوں نے دائیں بائیں مڑ کر دیکھا پھرکچھ سکون واطمینان حاصل ہوا اور حواس بحال ہوئے تو کلمۂ طیبہ پڑھنے اور تکبیر کہنے لگے۔ میں نے عرض کی :'' کیا معاملہ ہے ؟'' فرمایا: ''خیر ہے۔''میں نے پوچھا: ''مجھے بتائیے کیونکہ میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں واپس نہیں لوٹنا چاہتا ۔''پھر میں نے دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایااور کچھ دیر بعد آہستہ آہستہ نیچے کر لیا۔'' انہوں نے جواب دیا : '' میں نہیں بتاؤں گا۔''

    پھر جب میں نے انہیں قسم دی تو فرمایا:'' جب تک میں زندہ رہوں آپ اس بات کوظاہرنہیں کروگے۔''میں نے کہا: ''ہاں، ٹھیک ہے ۔'' تو فرمانے لگے :''میں نے دیکھا گویا قیامت قائم ہوچکی ہے۔لوگ ہکے بکے ، اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم کا انتظار کرتے اپنی قبروں سے نکل رہے ہیں۔ اسی دوران دو آدمی میرے پاس آئے ،ان جیسا حسین چہرے والا میں نے نہ دیکھا تھا۔ انہوں نے مجھے سلام کیا ،میں نے سلام کا جواب دیاپھر انہوں نے مجھ سے کہا:''اے سعید ! آپ کو بشارت ہو۔ آپ کے  گناہ معاف کر دئیے گئے، محنت وصول ہوئی، عمل قبول ہوااور دعابھی مقبول ہوئی، آپ کو جلد خوشخبری دی جائے گی ،آپ ہمارے ساتھ