Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
505 - 649
    اس نے حضرت سیِّدُنانو ح علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو طوفان سے نجات عطافرمائی اوراہل ایمان کو بچا کر مخالفین کو غرق کردیااورحضرت سیِّدُنانو ح علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے بھی اس موت کافیصلہ فرمایاجو جن و انس کے لئے لکھ دی گئی ہے ۔ چنانچہ ، اس نے اپنے حبیب،حبیبِ لبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ارشادفرمایا:
کُلُّ مَنْ عَلَیۡہَا فَانٍ ﴿ۚۖ۲۶﴾
ترجمۂ  کنز الایمان:زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے۔''(پ۲۷،الرحمٰن:۲۶)

    اس نے حضرت سیِّدُناابراہیم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کواپنا خلیل بنایا،انہیں مرادتک پہنچایا،صراطِ مستقیم پرثابت قدم رکھا، ان کو آسمانوں اور زمین کی ساری بادشاہی دکھائی اورمشاہدہ کروایا۔اورپھرآپ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام پر بھی موت کا وعدہ پورافرمایا۔اورحضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے موت کاحال اوراس کی طاقت کو یوں بیان فرمایا:'
اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدْرِکۡکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْکُنۡتُمْ فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو۔''(۱)(پ۵،النسآء:۷۸)

    اُس نے حضر ت سیِّدُناموسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کوہم کلامی کے لئے منتخب فرمایا،ان کو اپنا کلام سنایااوراپنے لذت والے خطاب سے انہیں ان کے مقصود مطلوب تک پہنچادیااورپھران کی طرف بھی موت کوبھیج دیا۔اور حضورنبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ارشادفرمایا:
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوۡرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے۔''(پ۴،اٰل عمران :۱۸۵)

    اُسی نے حضرت سیِّدُناعیسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایااوراس میں کوئی شک وشبہ نہیں اوریہ اس کے اختیارمیں ہے۔ اورحضرت سیِّدُناعیسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے مادرزاد اندھوں اور سفیدداغ (یعنی برص) والوں کوشفادی اورمُردوں کو زندہ کیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ان کے متعلق خبر دیتے ہوئے ارشاد فرماتاہے:
''اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ
ترجمۂ  کنزالایمان:میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گااور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا۔''(پ۳،اٰل عمران:۵۵)

    اوروہی ذات ہے جس نے حضرت سیِّدُنا محمد ِمصطفی، احمد ِمجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو نبی عربی ،امین و مامون،صاحبِ عزت ومر تبہ اورمحافظ ِ عزت ہونے کی حیثیت سے منتخب فرمایااورچن لیا۔باوجودیہ کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوایساقرب ومرتبہ عطا فرمایا جس تک کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے نفسِ کریمہ کوبھی وصالِ ظاہری کی خبر دی ، آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''اور اس سے رہائی پانے کی کوئی صورت نہیں اور جب موت نا گزیر ہے تو بسترپر مرجانے سے راہِ خدا میں جان دینا بہتر ہے کہ یہ سعادت آخرت کا سبب ہے۔''
Flag Counter