Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
506 - 649
وآلہ وسلَّم کو حوادثِ زمانہ سے آگاہ فرمایا،اورماقبل وصال فرمانے والے حضرات انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام (کی ظاہری وفات ) سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو تسلِّی واطمینان بخشا ۔چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی محفوظ کتاب میں ارشاد فرماتاہے :
''اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ ﴿۫۳۰﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرناہے۔(۱)(پ۲۳،الزمر:۳0)
زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا
سے ہجرت کی۔ پیر کے دن مدینۂ منوَّرہ
زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا
تشریف لائے اور وصال بھی بارہ ربیعُ الاوّل( ربیع النور) شریف پیر کے دن ہی فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی مدتِ مرض بارہ دن تھی اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا بخار دردِ سرکے سبب تھا۔''
  (المعجم الکبیر،الحدیث۱۲۹۸۴،ج۱۲،ص۱۸۳)
    حضرت سیِّدُناابن ابی یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''سرکار ابدقرار،شافِعِ روزِ شمارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت عام الفیل بارہ ربیع الاوّل شریف پیر کے دن ہوئی ۔اسی دن آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مکۂ مکرَّمہ
زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّ تَکْرِیْمًا
سے ہجرت فرمائی اور اسی دن مدینۂ منوّرہ
زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا
تشریف لائے ۔نیزآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا وصالِ ظاہری بھی گیارہ ہجری بارہ ربیع الاوّل شریف پیر کے دن وقتِ چاشت اور نصفُ النہار کے درمیان ہوا۔''
 (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ولادۃ رسول اللہ ،ج۱،ص۱۶۱۔المسند للامام احمدبن حنبل ،مسند عبد اللہ بن عباس ،الحدیث۲۵0۶،ج۱،ص۵۹۴)
    حضرت سیِّدُناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں: ''جب حضور نبئ پاک، صاحب ِ لولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر یہ سورۂ مبارکہ نازل ہوئی:
 (1) اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَ الْفَتْحُ ۙ﴿1﴾
ترجمۂ  کنزالایمان:جب اللہ کی مدد اور فتح آئے۔(پ30،النصر:1)

     توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''مجھے میرے انتقال کی خبر دی گئی ہے۔''
(سنن الدارمی،المقدمۃ،باب فی وفاۃالنبی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم،الحدیث۷۹،ج۱،ص۵۱)
پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بخار تھا۔''
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''اس میں کفار کا ردّ ہے جو سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی وفات کا انتظارکیا کرتے تھے۔ انہیں فرمایا گیا کہ'' خود مرنے والے ہو کر دُوسرے کی موت کا انتظار کرنا حماقت ہے ۔کفار تو زندگی میں بھی مرے ہوئے ہیں اور انبیاء کی موت ایک آن کے لئے ہوتی ہے پھر اُنہیں حیات عطا فرمائی جاتی ہے۔ اس پر بہت سی شرعی بُرہانیں (دلائل)قائم ہیں۔''
سرکارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے  کب پردہ فرمایا؟
    حضرت سیِّدُناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے:''تمہارے نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پیر کے دن پیدا ہوئے۔پیر کے دن مکۂ مکرَّمہ
Flag Counter