| حکایتیں اور نصیحتیں |
اس کااحاطہ نہیں کرسکتی کہ اسے بیان کروں۔میں اس کی صفات بیان نہیں کرسکتی کہ اس کی تعریف وتوصیف کروں اورمیں نہیں جانتی کہ کس طرف سے اس تک رسائی حاصل کروں۔ تم نے اس امر کے متعلق پوچھا ہے جسے میں نہیں جانتی اور تم اس راز کااظہار چاہتے ہوجسے حاصل کرنے میں ، مَیں خودہمیشہ عاجزرہی ۔مجھے تویہاں سے صرف حیرت وتعجب ہی حاصل ہواہے۔لیکن اے معرفتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں حیرت زدہ !اے اس کے معانی کے حسن میں عقل کولُٹادینے والے !اگرتُو اس کی معرفت چاہتا ہے توتوفیقِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی راہ پر چل۔کیونکہ وہ ایساقریب ہے کہ تُو جب چاہے اس کی بارگاہ میں حاضرہوجائے اوروہ بعید ہے مگرفاصلے کے ساتھ نہیں کہ تواسے طے کرلے۔اگر تو اس سے خالص دوستی اور تعلق رکھے گا تو وہ تجھے پاکیزگی وپسندیدگی کے جام سے سیراب فرمائے گا اور اگر تونے اس کی محبت کاجام پی لیاتویہی جام تجھے سیراب کردے گا اور اگر تو اس کے ذکر اور حمدوثنا کے نغمے سننا چاہتا ہے تواسے کسی بھی چیز سے تشبیہ دینے سے بچتے ہوئے توحیدوپاکی بیان کرنے والی زبان سے کہہ :
تَبَارَکَ اللہُ فِیْ عُلْیَاءِ عِزَّتِہٖ وَجَلَّ مَعْنَی فَلَیْسَ الْوَھْمُ یَحْوِیْہٖ وُجُوْدُہٗ سَابِقٌ لَاشَیْءٌ یُشْبِھُہ، وَلَاشَرِیْکَ لَہٗ لَاشَکَّ لِیْ فِیْہٖ لَاکَوْنٌ یَحْصُرُہ، لَاعَوْنٌ یَنْصُرُہ، لاَکَشْفُ یُظْھِرُہ، لَاجَھْرٌیُبْدِیْہٖ لَادَھْرٌیَخْلُقُہ، لَانَقْصٌ یُلْحِقُہ، لَانَقْلٌ یَسْبِقُہ، لَاعَقْلٌ یَدْرِیْہٖ حَارَتْ جَمِیْعُ الْوَرَی فِیْ کُنْہِ قُدْرَتِہٖ وَلَیْسَ تُدْرِکُ مَعْنَی مِنْ مَعَانِیْہٖ سُبْحَانُہ، وَتَعَالٰی فِیْ جَلَالَتِہٖ وَجَلَّ لُطْفًاوَعَزَّفِیْ تَعَالِیْہٖ
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی عُلُو عزت کے اعتبارسے بلندوبرترہے اوروہ بڑاہے کہ وہم اس کااحاطہ نہیں کرسکتا۔(۲)۔۔۔۔۔۔اس کاوجودہمیشہ سے ہے ،کوئی شئے اس کے مشابہ نہیں اوراس کاکوئی شریک نہیں اورمجھے اس میں کوئی شک نہیں۔(۳)۔۔۔۔۔۔کوئی جگہ نہیں جواسے گھیرلے،کوئی مددگارنہیں جواس کی مددکر ے،کوئی کشف نہیں جواسے ظاہرکرے اورکوئی اعلان نہیں جواسے بیان کرے۔(۴)۔۔۔۔۔۔کوئی زمانہ نہیں جس نے اسے پیداکیا،کوئی عیب نہیں جواس سے مل جائے،کوئی ایسی ذات نہیں جواس سے بڑھ جائے اورکوئی عقل نہیں جواس کاادراک کرے۔(۵)۔۔۔۔۔۔ساری مخلوق اس کی قدرت کی حقیقت میں حیران وسرگرداں ہے مگراس کے معانی میں سے ایک معنی کابھی ادراک نہیں کرسکی۔(۶)۔۔۔۔۔۔وہ پاک ہے اوراس کی شانیں بلندوبالاہیں اوروہ بڑاہی مہربان اورطاقتوروبرترہے ۔
پاک ہے وہ جومعبودہے ،اس نے حضرت سیِّدُناآدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو اپنے دست قدرت سے بنایا،تمام فرشتوں سے انہیں سجدہ کروایا،ان کو اپنی وسیع جنت میں ٹھہرایا۔پھرحضرت سیِّدُناآدم علیہ الصلٰوۃ والسلام اور ان کی تمام اولادکے بارے میں موت کافیصلہ فرمایا۔ اس نے اپنے پیارے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اس فیصلہ کی خبر دیتے ہوئے ارشادفرمایا :کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:ہرجان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔''(پ۱۷،الانبیآء:۳۵)