وَکُلُّ شَیۡءٍ عِنۡدَہٗ بِمِقْدَارٍ﴿۸﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے۔ (پ۱۳،الرعد:۸)''اس کی ذات دیگرذوات کی طرح نہیں اور اس کی صفات دیگرصفات کی مثل نہیں۔وہ درجات بلند کرنے والا ، زندوں کومارنے والااورمردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ بولیاں اس پر مشتبہ نہیں ہوتیں اور نہ ہی آوازیں اس پر مختلف ہوتی ہیں۔ حواس کے ترازو سے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اسے نیند آئے نہ اُونگھ۔اولیاء اس کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے ہیں۔ملائکہ اس کے خوف سے اس کے ذکر سے غافل نہیں ہوتے۔جن وانس اس کے قبضہ واقتدار میں ہیں۔جنت وجہنم اس کے'' امر ونہی'' کے تحت ہیں۔بیان کرنے والے (جیسااس کاحق ہے) اس کی تعریف وتوصیف نہیں کرسکتے ۔ گمان اسے قید نہیں کرسکتے ۔اس پرکسی کا احسان نہیں۔آنکھیں اسے کُھلَم کُھلا نہیں دیکھ سکتیں۔وہ جب کسی شئے کوچاہے تواس سے فرمائے :''ہوجا۔''تووہ فوراًہوجاتی ہے ۔ مخلوق اس کے غالب ارادہ میں مقیدہے۔ اُسی نے مخلوق اور ان کے اعمال کوپیدافرمایااوروہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں اوروہ ارشاد فرماتاہے:
لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہو گا۔''(۱)(پ۱۷، الانبیآء:۲۳)
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی معرفت تک جانے والی حقائق کی راہوں کو کٹھن و دشوار بنا دیاپس اس پر چلنے والے چٹیل میدان میں اگئے ۔ اس نے مخلوق کے ادراک کوحیران کر دیاتواب وہ حیرت زدہ ہیں۔انہوں نے عقلوں کے تیل سے معرفت کے چراغ جلائے اورایمان کی بجلی کے نورسے رہنمائی حاصل کی ۔فرمان باری تعالیٰ ہے:
''کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوْا فِیۡہِ ٭ۙ
ترجمۂ کنزالایمان:جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے۔''(پ۱، البقرۃ:۲0)
پھرانہوں نے اپنے دلوں کی طرف رجوع کیاتودل کہنے لگے: ''ہم پاکیزگی کے گھر ہیں اور گھر والا بہتر جانتاہے کہ گھر میں کیا ہے۔''پھرانہوں نے صفات کادامن تھاماتو وہ بولیں:''ہمیں اس کے اظہارکی طاقت نہیں ۔''اس کے بعدانہوں نے عقل کی طرف اشارہ کیاتو عقل نے مدہوشی وحیرت کے عالم میں ان سے کہا:''میں بھی اس معاملہ میں تمہاری طرح حیران ہوں ، میں
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' کیونکہ وہ مالکِ حقیقی ہے، جو چاہے کرے، جسے چاہے عزّت دے جسے چاہے ذلّت دے جسے چاہے سعادت دے جسے چاہے شقی کرے ،وہ سب کا حاکم ہے، کوئی اس کا حاکم نہیں جو اس سے پُوچھ سکے۔ (اوران سب سے سوال ہوگا)کیونکہ سب اس کے بندے ہیں۔ مملوک ہیں ۔سب پر اس کی فرمانبرداری اور اطاعت لازم ہے۔ اس سے توحید کی ایک اور دلیل مستفاد ہوتی ہے ۔جب سب مملوک ہیں تو ان میں سے کوئی خدا کیسے ہوسکتا ہے؟''