Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
502 - 649
سکے ۔ بہت سی عقلوں نے اس دروازے میں داخل ہونا چاہا مگروہ ہمیشہ بند رہا۔عقل نے کتنے ہی پیغام بھیجے مگر وہ حیرانی کے عالم میں واپس لوٹ آئے ۔ عقل بغیربدلے اس درپرکھڑی ہے،فکر اس بارگاہ میں ہمیشہ سے حاضرہے،پختہ سمجھ اس کی شانِ بے نیازی کے ادراک میں حیران وششدرہے کہ حواس باختہ ہوچکی ہے۔عقلیں دنگ ہیں کہ معقول کے ذریعے اس کی پہچان نہیں ہوتی اور اذہان ہکاّبکاّ ہیں کہ منقول کے ذریعے اس کاادراک نہیں ہوتا۔

    پاک ہے جومعبودہے ،کیسا؟کیسے ہو کہ وہ کیفیت سے پاک ہے۔کہاں؟کہاں ہوکہ وہ کسی جگہ میں ہونے سے پاک ہے۔ وہ ہر شئے سے اوّل ہے اور اس کے لئے ابتداء نہیں، وہ ہر شئے کا آخر ہے اوراس کے لئے انتہاء نہیں۔ اس کو کسی مثل پر قیاس کیا جاسکتاہے نہ کسی مادی شئے کے ساتھ اسے متصف کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی کسی جسم کے ساتھ اس کی پہچان ہو سکتی ہے۔اس نے شر کو پیدا کیا اوراسے لکھ دیا،اس نے خیر کو پیدا کیاا وراسے پسند فرمایا۔جس نے اس کی اطاعت کی اس پر رحم فرماتاہے اورجس نے نافرمانی کی اسے عذاب دیتاہے ،کسی فیصلے کے بارے میں پوچھنے کامحتاج نہیں۔ اپنے اولیاء سے چھپتا نہیں اور نہ ہی انہیں حجاب میں رکھتا ہے ۔ اس کایہ ازلی وعدہ ہے کہ
یٰۤاَ یَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃ ﴿۲۷﴾٭ۖارْجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾
ترجمۂ  کنزالایمان:اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔''(پ۳0، الفجر: ۲۷۔۲۸)

    پاک ہے ملک وملکوت والا، عزت وعظمت والا ،وہ زندہ ہے جسے موت نہیں۔وہ پوشیدہ رازوں،دلوں کی دھڑکنوں اور چھپے ہوئے خیالوں کی آہٹوں کو بھی جانتا ہے۔ اس نے عقلوں کو اپنی معرفت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے اس سمندر میں غرق کردیا جس کی کوئی ابتداء ہے نہ انتہاء ۔وہ سوچوں کوپیغام دینے والاہے، اس کی معرفت کی راہ میں سوچ رک گئی اورحیران ہے مگروہ ہمیشہ سے باقی ہے۔احساس کا جاسوس آیا تاکہ اس کی بعض صفات کو جانے لے تو تقدیر نے اسے آوازدی کہ اے حیرت زدہ !توکہاں چل دیا، دروازے اورراستہ توبند ہیں۔اس کے ادراک کی طرف کوئی راہ نہیں۔ نہ ہی اس کی کوئی شبیہ و مثل ہے۔ ایساسمندرہے کہ وہاں سے ''جوہر''نکالناکسی ''غوطہ خور''کے لئے ممکن نہیں۔ایسی رات ہے کہ بہت چمکنے والاستارہ بھی اس میں آنکھ کے لئے روشنی نہیں کرسکتا۔

    پاک ہے وہ ذات جس نے تمام موجودات کو بنایا،زمانے کی تدبیر فرمائی، انسان کوپیداکیااورپھر اسے بولناسکھایا،قرآن کریم اتارا، ایمان وکفراور اطاعت ونافرمانی کو مقدر کیا،وہ بھول سے پاک ہے ،اسے ایک کام دوسرے سے غافل نہیں کرتا ، زمانے اسے نہیں بدل سکتے ،امور کابدلنا اس پر مختلف نہیں ہوتا۔اختیار کو مقرر فرمانے والا ہے اور قیامت کے دن کا مالک ہے ۔اس کی شان سب سے بلندہے ،اور اسی کے لئے ہیں سب اچھے نام اور بلند صفات۔اوروہ فرماتاہے:
''خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا
ترجمۂ  کنزالایمان: آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بنائے۔(پ۱۹،الفرقان :۵۹)'' اور
''اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ
Flag Counter