Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
501 - 649
 بیان46:         وصالِ مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم

حمد ِ باری تعالیٰ:
    تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے حقیقی عقلمندوں کوچن لیاکہ قربت سے غفلت کوچھوڑکراس کی معرفت کے چھپے ہوئے مطالب کوتلاش کریں۔اوراس نے پختہ سمجھ کی کشتیوں کو،اپنی ہمیشہ رہنے والی صفت کے متعلق سوال کے دریاؤں کی تیزلہروں میں غرق کردیا۔اور غوروفکرکے پرندوں کے پروں کوکنوئیں سے آزادکرکے اپنی شانِ بے نیازی کے میدانوں میں پہنچا دیا۔ اورحواس وشعورکے پیمانوں کی بنیادنااُمیدی کے کدَّال سے گرادی، لہٰذااس کی صفات وقدرت کااندازہ لگانے کاکوئی پیمانہ نہیں۔ اورعقل ودانش کے پرندوں کو اپنی ذات کی معرفت کے جال میں داخل کیا تو افلاک و املاک سبھی اس کی شانِ اَحَدِیَّت کے ادراک سے عاجز آگئے اورعقلیں اس کے رازِ یکتائی کے حصول کے قریب پہنچنے سے عاجزآگئیں۔پس وہ اوّل ہے جس کی اَوَّلِیَّت پر سبقت لے جانے والاکوئی نہیں۔وہ آخِر ہے جس کے آخری ہونے پرکوئی آخرنہیں ۔وہ ظاہرہے کہ اپنے اہلِ محبت پر دلیل کے ساتھ عیاں ہے۔وہ باطن ہے کہ غوروفکرکے باوجود دل اس کاتصور نہیں کر سکتا۔وہ ایسا سمیع (یعنی سننے والا)ہے کہ رحمِ مادرکے پردوں کی تاریکی میں بچہ کے سانس کی آوازبھی سن لیتا ہے۔وہ ایسابصیر(یعنی دیکھنے والا)ہے کہ رات کے اندھیرے میں چھپی ہوئی سیاہ چٹان پرچیونٹی کے رینگنے کانشان بھی دیکھ لیتاہے۔وہ علیم ہے کہ ہروہ بات جانتاہے جسے بندہ اپنے دل میں چھپاتا ہے ۔ وہ جَبَّار ہے کہ ہرجابر اس کی بلندہیبت کے سامنے جھکا ہوا ہے۔وہ قَہَّار ہے کہ ہرمتکبرپراپنی شانِ اقتدارسے غالب ہے ۔ ساری کائنات اس کی تسبیح بیان کررہی ہے اورتمام مخلوق اس کی بزرگی کی معترف ہے۔اورگرج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے اورفرشتے اس کے ڈرسے (یعنی اس کی ہیبت وجلال سے) اس کی تسبیح کرتے ہیں۔

    اے اعلیٰ مقصد کے طلب گار! راستے میں بہت زیادہ ہلاکتیں اور دُشوار گُزارگھاٹیاں ہیں۔اگر تو نے یہاں توفیقِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کوپالیا تواپنی ملاقات میں کامیاب ہوجائے گا،اپنی اُمید کی انتہاء کو پالے گا،پھر تو ایسے جمال کو دیکھے گا جوکبھی تیرے خیال میں نہ آیاتھااور ایسے جواب سنے گا جو کبھی تیرے دل میں نہ کھٹکے ہوں گے،اورتو ایساجام پئے گا جو تجھے سیراب کر دے گااور اہل ومال سے بے پرواہ کر دے گا۔اگر تواپنی عقل ورائے اورمثال سے اس کی بارگاہ میں رسائی چاہے گا تو ملاقات تو کجااپنی دیگر نعمتوں سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے گااورخسارہ وعذاب مول لے گا۔اپنے تجسُّس اورسوال میں کمی کراورچھان بین ا ورجھگڑے سے رک جا۔ اور جان لے کہ( جس طرح تومقصودچاہتاہے )اللہ عزوجل کی مشیَّت اس کے برعکس ہے۔

    ذاتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی معرفت کے میدانوں کی طرف کتنے ہی عقلوں کے قافلے چلے اور بھٹکتے رہے،لیکن منزل پر نہ پہنچ
Flag Counter