Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
498 - 649
(19) اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُ ؕ﴿4﴾
ترجمۂ کنزالایمان:ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں۔(پ1،الفاتحۃ:5)

    (۵)۔۔۔۔۔۔دل، یادِ محبوب عَزَّوَجَلَّ میں محبت کے رابطے سے جَڑے رہتے ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
(20)  یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ
ترجمۂ کنزالایمان:کہ وہ اللہ کے پیارے اوراللہ ان کا پیارا۔(پ6،المائدۃ :54)

    (۶)۔۔۔۔۔۔راز ،جلوۂ محبوب عَزَّوَجَلَّ کے مشاہدہ میں کھوئے رہتے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے:
(21) وَ شَاہِدٍ وَّ مَشْہُوۡدٍ ﴿ؕ3﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور(قسم) اس دن کی جو گواہ ہے اور اس دن کی جس ميں حاضرہوتے ہيں۔(پ30،البروج :3)

    (۷)۔۔۔۔۔۔روحیں ،راحت اور پھولوں کے ذکر سے سکون حاصل کرتی ہیں۔چنانچہ،اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فر ماتا ہے:
(22) فَرَوْحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ
ترجمۂ کنزالایمان:تو راحت ہے اور پھول۔(۱)(پ27،الواقعۃ:89)

    پس عارف کوبارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں حاضری سے غفلت نہیں ہوتی؟اورنہ ہی عابد اپنے معبودِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ سے غافل ہوتا ہے۔
دِل کی سیاہی کیسے دُور ہو؟
    حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں نے ایک نوجوان کو دیکھا جو بظاہر مجنون تھا مگرباطن محبت الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی دولت سے مالا مال تھا۔ میں سمجھ گیاکہ یہ نوجوان اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عشق میں چُور ہے۔میں نے دیکھا کہ وہ رو رہا تھا اور یہ دعا کر رہا تھا: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو نے محبت کرنے والوں کو قرب سے نوازا لیکن مجھے دُور کر دیا،میر ا  گناہ کیا ہے ؟ان کو تو نے اپنا وصال عطاکیا اور مجھے ہجر و فراق سے دوچار کیا۔ ہائے، میری مصیبت ! تو نے ان کو قیام کے لئے بیدار رکھااور مجھے سلائے رکھا۔ ہائے، میری رسوائی!تو نے ان کو سحر ی کے وقت مناجات کی لذت عطا کی اور مجھے محروم رکھا ۔ہائے، میرا دکھ!''پھر اُس نے رونا شروع کردیا۔ حضرت سیِّدُناذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میرے جسم کے پرسکون اعضاء پر کپکپی طاری ہوگئی۔ میرا پوشیدہ عشق جوش مارنے لگاتو میں نے اس سے پوچھا:''اے نوجوان! یہ رونا کیسا؟''تو وہ کہنے لگا:''اے ذوالنون! مجھے بتائیے کہ کپڑے کی میل تو پانی اور صابن سے دور ہو جاتی ہے لیکن دل کی سیاہی کیسے دُور ہو؟'' میں نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں بھی اسی کی تلاش میں ہوں جس کی تلاش میں تو ہے۔''مجھے اس نوجوان کے واقعہ سے بڑی حیرانگی ہوئی ۔''
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''ابوالعالیہ نے کہا کہ ''مقرّبین سے جو کوئی دُنیا سے مفارقت کرتا ہے اس کے پاس جنّت کے پُھولو ں کی ڈالی لائی جاتی ہے، اس کی خوشبو لیتا ہے تب رُوح قبض ہوتی ہے۔''
Flag Counter