ترجمۂ کنزالایمان:اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں۔(۲)
(۳)۔۔۔۔۔۔آنکھیں،جلوۂ محبوب عَزَّوَجَلَّ دیکھنے کی آرزومندرہتی ہیں۔جیسا کہ قرآنِ پاک فرماتا ہے :(پ2،البقرۃ:186)
(18) وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ22﴾اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ﴿ۚ23﴾
ترجمۂ کنزالایمان:کچھ منہ اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے۔(۳)(پ29،القیامۃ:22۔23)
(۴)۔۔۔۔۔۔بدن ، محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں کھڑے ہو کریہ وظیفہ پڑھتے رہتے ہیں:
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''ذکر تین طرح کا ہوتا ہے: (۱)۔۔۔۔۔۔ لسانی (۲)۔۔۔۔۔۔ قلبی(۳)۔۔۔۔۔۔ بالجوارح۔ ذکرِ لسانی تسبیح، تقدیس ،ثناء وغیرہ بیان کرنا ہے، خطبہ، توبہ، استغفار، دعا وغیرہ اس میں داخل ہیں۔ ذکرِ قلبی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا یاد کرنا، اس کی عظمت و کبریائی اور اس کے دلائلِ قدرت میں غور کرنا۔ علماء کا استنباطِ مسائل میں غور کرنا بھی اسی میں داخل ہیں۔ ذکر بالجوارح یہ ہے کہ اعضاء طاعتِ الہٰی میں مشغول ہوں جیسے حج کے لیے سفر کرنا، یہ ذکر بالجوارح میں داخل ہے۔ نماز تینوں قسم کے ذکر پر مشتمل ہے۔ تسبیح و تکبیر، ثناء و قراء ت تو ذکر ِ لسانی ہے اور خشوع و خضوع، اخلاص ذکر ِقلبی اور قیام، رکوع و سجود وغیرہ ذکر بالجوارح ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :''تم طاعت بجالا کر مجھے یاد کرو میں تمہیں اپنی امداد کے ساتھ یاد کروں گا۔ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ'' اگر بندہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو ایسے ہی یاد فرماتا ہوں اور اگر وہ مجھے جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں۔قرآن و حدیث میں ذکر کے بہت فضائل وارد ہیں اور یہ ہر طرح کے ذکر کو شامل ہیں۔ ذکر بالجہر کو بھی اور بالاخفاء کو بھی۔''
2 ۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' اس میں طالبانِ حق کی طلب ِ مولیٰ کا بیان ہے ،جنہوں نے عشقِ الہٰی پر اپنے حوائج کو قربان کردیا۔ وہ اسی کے طلبگار ہیں، انہیں قرب ووصال کے مژدہ سے شاد کام فرمایا۔ شانِ نزول: ایک جماعتِ صحابہ نے جذبۂ عشقِ الٰہی میں سید عالم صلَّی اللہ علیہ وآ لہ وسلَّم سے دریافت کیا کہ ہمارا رب کہاں ہے؟ اس پر نویدِ قرب سے سرفراز کرکے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مکان سے پاک ہے۔ جو چیز کسی سے مکانی قرب رکھتی ہے وہ اس کے دور والے سے ضرور بُعد رکھتی ہے اوراللہ تعالیٰ سب بندوں سے قریب ہے۔ مکانی کی یہ شان نہیں۔ منازلِ قرب میں رسائی بندہ کو اپنی غفلت دور کرنے سے میسر آتی ہے۔ دوست نزدیک تراز من بمن ست ۔ ویں عجب ترکہ من ازوے دورم۔''
3۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''انہیں دیدار الہٰی کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا۔ مسئلہ: اس آیت سے ثابت ہوا کہ آخرت میں مؤمنین کو دیدارِ الہٰی میسّر آئے گا ۔یہی اہلِ سنت کا عقیدہ و قرآن و حدیث و اجماع کے دلائلِ کثیرہ اس پر قائم ہیں اور یہ دیدار بے کیف اور بے جہت ہوگا۔''