Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
499 - 649
    اے میرے اسلامی بھائی!جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت د لوں میں قرار پکڑ لیتی ہے توانہیں محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے انوار سے روشن کردیتی ہیں۔محبت کی بدولت دل میں سات ثمرات پھلتے ہیں، جن کے بغیر معرفت الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا چراغ روشن نہیں ہوتا:

(۱)۔۔۔۔۔۔ نیت میں اخلاص(۲)۔۔۔۔۔۔خشیَّتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ (۳)۔۔۔۔۔۔اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ثواب کی اُمید (۴)۔۔۔۔۔۔اس کے ساتھ سچا رہنا (۵) ۔۔۔۔۔۔اسی پر توکل کرنا (۶)۔۔۔۔۔۔اس سے اچھا گمان رکھنا اور(۷)۔۔۔۔۔۔اسی کی طرف لگن و شوق ہونا۔جس طرح درج ذیل سات اشیاء کے بغیر چراغ نہیں جلتا جیسے(۱)۔۔۔۔۔۔زنّاد(وہ پتھر جس کو رگڑکر آگ نکالی جاتی ہے) (۲)۔۔۔۔۔۔پتھر (۳)۔۔۔۔۔۔آگ پکڑ لینے والی کوئی چیز مثلاً کپڑا (۴)۔۔۔۔۔۔گندھک(۵)۔۔۔۔۔۔چراغ دان (۶)۔۔۔۔۔۔ تیل اور (۷)۔۔۔۔۔۔فتیلہ۔ اسی طرح مذکورہ سات چیزوں کے بغیر معرفتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا چراغ بھی روشن نہیں ہوتا۔''

    اے میرے اسلامی بھائی! معلوم ہو ا کہ ان چیزوں کے بغیر چراغ روشن کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔اگر تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے مشاہدے کے لئے اپنے دل کے چراغ کو روشن کرنا چاہتاہے تو تیرے لئے سخت کوشش کا زناد،تکالیف جھیلنے کا پتھر، عشق کی آگ، محبت کی گندھک،توکل کا چراغ دان،فکر کا تیل اور صبر کا فتیلہ ضروری ہے۔

    پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور گریہ و زاری کی زنجیر میں چراغ کو لٹکادے تو اس طرح تیرے دل میں نورِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ روشن ہوگااور تو جمالِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا مشاہدہ کر لے گا۔
حقیقی بندے اور سچے محبوب :
    حضرت سیِّدُنامحمد بن احمد مفید علیہ رحمۃ اللہ الوحید فرماتے ہیں، میں نے حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کو فرماتے سنا، میں حضرت سیِّدُنا سری سقطی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں سو رہا تھا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے بیدار کیااورفرمانے لگے: اے جنید! میں نے دیکھا کہ گویا میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور کھڑا ہوں اورمجھے ارشاد فرمایاگیا:''اے سری !میں نے مخلوق پیدا کی تو سب میری محبت کا دعویٰ کرتے تھے ۔پھرمیں نے دُنیا پیدا کی تو نوّے فی صد(90% )بھاگ گئے اوردس فیصد( 10%)باقی رہ گئے۔ پھر میں نے جنت پیدا کی تو بقیہ میں سے بھی نوّے فیصد( 90% )بھاگ گئے اور صرف دس فیصد(10%)بچ گئے۔پھر جب میں نے ان پر ذرہ بھر آزمائش نازل کی تو اس باقی رہ جانے والی تعدادکابھی صرف دس فیصد( 10%)بچا اور باقی نوّے فیصد (90% ) بھاگ گئے۔میں نے باقی رہنے والوں سے پوچھا:''نہ تو تم نے دنیا کو چاہا، نہ جنت طلب کی، نہ ہی آزمائش سے بھاگے۔ آخر! تم کیا چاہتے ہو؟اور تمہارا مقصود کیا ہے؟''توانہو ں نے عرض کی:'' ہمارا مقصود تُو ہی تُو ہے، اگر تو ہم پر مصائب نازل فرمائے گا تب بھی ہم تیری محبت کو نہ چھوڑیں گے۔''میں نے ان سے کہا:''میں تمہیں ایسی ایسی مصیبتوں اور آزمائشوں میں
Flag Counter