Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
496 - 649
ہوں پھر اسے اپناقرب اور اپنی محبت عطا کرتاہوں۔تو میرے نزدیک کونسی نعمت اس کے برابرہو سکتی ہے اورمیرے نزدیک کون سا شرف ومرتبہ اس سے بڑھ کر ہو سکتا ہے۔ میری عزّت و جلال کی قسم! اپنی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے میں اپنے محب کے سینے کو ضرور شفا بخشوں گا اوریہ اس لئے کہ میں اپنے محب سے محبت کرتاہوں۔''
(حلیۃ الاولیاء،الحارث بن اسد المحاسبی، الحدیث۱۴۶۴۸، ج۱0،ص۸۶،بتغیرٍ)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت اپنی قدیم عنایت کے ساتھ بندے پر سبقت لے جاتی ہے توپھر بندہ سیدھے راستے پر کیوں نہیں چلتا؟'' (حکم ہوتاہے ) اے جبرائیل علیہ السلام ! فلاں کو سلا دو اور فلاں کو اٹھا دو۔تو محب اپنے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے حضور کھڑا ہو جاتا ہے، اس کی عبادت کو لازم پکڑ لیتا ہے اور اس کی محبت میں حیران وسرگرداں رہتاہے تو اس پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور عتاب اثر نہیں کرتا۔
سیِّدُناذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کا رِقّت انگیز بیان:
    حضرت سیِّدُناابو حیان علیہ رحمۃ اللہ الحنّان فرماتے ہیں:'میں مصر کے ایک جنگل بیابان میں حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کے اجتماعِ پاک میں حاضر ہوا ۔میں نے حاضرین ِ اجتماع کو شمار کیا تو وہ ستر ہزار (70,000)کے لگ بھگ تھے۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت اور محبین باری تعالیٰ کے متعلق بیان فرما رہے تھے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے اجتماع میں گیارہ افراد مر گئے۔ لوگ چیخ و پکا ر اور گریہ وزاری کرتے ہوئے گر رہے تھے ۔بہت سے لوگ زمین پر بے ہوش پڑے تھے۔سارا دن انہیں اِفاقہ نہ ہوا توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا ایک مرید عرض کرنے لگا:''اے ابوالفیض!آپ نے محبتِ خالق عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے دلوں کو جلا کر رکھ دیا اور غم و اَندُوہ میں ڈال دیا ۔ اب محبتِ مخلوق کے ذکر سے ان کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچایئے۔''یہ سن کرحضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے غم واندوہ میں ڈوبی ہوئی شدید آہ بھری اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی قمیص شق ہو کر دوٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ پھر ارشاد فرمانے لگے: ''آہ! افسوس! ان کے دل معلَّق ہوگئے۔ ان کی آنکھیں اَشک بار ہوگئیں۔انہوں نے شب بیداری کا عہد وپیمان اور نیند کا بائیکاٹ کر لیا۔ ان کی رات طویل اور نیند کم ہے۔ ان کاغم والم ختم نہ ہو گا۔ان کے کام دُشوار اور آنسو بہت زیادہ ہیں۔ ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اورپلکیں نَم ناک ہیں۔ زمانے نے ان سے دشمنی کی اور رشتے داروں اور پڑوسیوں نے جفا کی۔ محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دلوں کو جلاکر رکھ دیا۔ ان کی شرابِ طہور گدلے پن سے پاک صاف ہے۔ بے شک ان کے لئے اپنے مقصود تک پہنچنے اورسُرُور و کامیابی پانے کی بشارت ہے۔''

    اے میرے اسلامی بھائیو! محبت ان لوگوں کا کام ہے جنہوں نے اپنے دل میں محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کے لئے ذرہ برابر جگہ نہ چھوڑی۔اور محبت ہر عضو ِ بدن پر اپنی علامات ظاہر کرتی ہے ۔
Flag Counter