نکلا اور جب ارکانِ حج ادا کر لئے تو ان کی طرف چل پڑا تا کہ ان کی گفتگو سنوں اور ان کے بیان سے نفع اٹھاؤں۔ہم کئی لوگ یہی سوچ لے کر گئے۔ ہمارے ساتھ ایک نوجوان بھی تھا جس میں نیک لوگو ں کی نشانیاں اور محبت کرنے والوں کی علامتیں پائی جاتی تھیں۔ وہ بزرگ ہمیں ملے ۔ہم ان کے پاس بیٹھ گئے۔ اسی نوجوان نے سلام و کلام سے ابتداء کی۔ بزرگ نے اس سے مصافحہ کیا اوراس کی طرف متوجہ ہوئے ۔نوجوان نے عرض کی :''یاسیدی !اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو بیمار دلوں کا طبیب بنایاہے، مجھے ایک ایسی بیماری ہے کہ طبیب اس کے علاج سے عاجز آچکے ہیں۔اگر آپ مجھ پر اپنا لطف و کرم فرمائیں تو میرا علاج فرما دیجئے۔'' بزرگ نے پوچھا:''جو معاملہ تجھ پر ظاہر ہوا ہے اس کے مطابق پوچھ ۔'' اس نے عرض کی:''محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی علامت کیا ہے ؟'' بزرگ نے جواب دیا:'' اس کی علامت یہ ہے کہ تو اپنے آپ کو بیمار جان، کیا تُو نے دیکھا نہیں کہ بیمار مرض کے خوف سے کھانا نہیں کھا تا؟''
یہ سنتے ہی نوجوان نے بآوازِبلند چیخ ماری۔ ہمیں اندیشہ ہوا کہ اس کی روح پرواز کر گئی ہے۔جب اسے اِفاقہ ہوا تو پھر عرض کی:''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پررحم فرمائے!محبت کرنے والوں کی علامت کیا ہے؟'' فرمایا: ''محبت کرنے والوں کا درجہ بہت بلند ہے۔'' نوجوان نے پھر عرض کی :''مجھے ان کے اوصاف بتائیے؟''تو انہوں نے فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرنے والے اس کے نورِ جلال کو دیکھتے ہیں توا ن کے جسم روحانی اور عقلیں اسمانی ہو جاتی ہیں جو ملائکہ کی صفوں کے درمیان واضح طور پر چلتی پھرتی ہیں اور تمام اُمورِ آخرت کایقینی طورپر مشاہدہ کرتی ہیں۔ پس وہ حسب ِ استطاعت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کو جنت کی طمع ہوتی ہے نہ دوزخ کا خوف ۔'' اس پر اس نوجوان نے ایک آہِ سردْدِل پُردرد سے کھینچی اور اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی ۔وہ بزرگ رو رو کر اُسے بوسے دینے لگے۔ پھر فرمانے لگے:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! یہ خائفین کی موت ہے اوریہ محبین کا مقام ہے۔''
حضرت سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داؤد علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی طرف وحی فرمائی: ''اے داؤد ! مجھ سے محبت کرواور میرے محبین سے بھی محبت کرو اور میرے بندوں کے دلوں میں میری محبت ڈالو۔'' انہوں نے عرض کی :''یااللہ عَزَّوَجَلَّ !میں تجھ سے محبت کرتاہوں اور تیرے محبین سے بھی محبت کرتاہوں لیکن تیرے بندوں کے دلوں میں تیری محبت کیسے داخل کروں ؟'' توارشاد فرمایا:''ان کو میری نعمتیں اورعطائیں یا د دلاؤکیونکہ وہ مجھے احسان کرنے والاہی جانتے ہیں۔''