Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
494 - 649
    وہ سنتی رہی اوررو رو کر تڑپتی رہی یہاں تک کہ جب میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ عا لیشان پر پہنچا:
(13) اِنَّ لَدَیۡنَاۤ اَنۡکَالًا وَّ جَحِیۡمًا ﴿ۙ12﴾وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَّ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿13﴾٭
ترجمہ کنزالایمان:بے شک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ اور گلے میں پھنستا کھانااور درد ناک عذاب۔(پ29،مزمل:12تا13)

    تو اس نے زور دار چیخ ماری اور نیچے گر گئی اوراس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ میں اس کی اس حالت پر پریشان تھا کہ اچانک خواتین کا ایک قافلہ آیا۔ انہوں نے کہا:''ہم اس کے غسل وکفن کااہتمام کریں گی۔''میں نے پوچھا: ''تمہیں اس کے انتقال کی اطلاع کس نے دی؟''انہوں نے بتایا:''ہم اس کی دُعا سنا کرتی تھیں کہ ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے حضرت سیِّدُناربیع علیہ رحمۃاللہ السمیع کے سامنے موت دینا۔''جب ہم نے سناکہ آپ اس کے پاس تشریف لائے ہیں تو ہم نے جان لیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی دُعا قبول فرما لی ہے۔''

    اے میرے اسلامی بھائیو! جب اللہ عَزَّوَجَلَّ بندوں کے دل کی زمین سنوار تاہے تواسے خشیَّت کے ہَل سے اُلَٹتا پَلَٹتا ہے اور اس میں محبت کا بیج بو کر آنسوؤں کے پانی سے سیراب کرتاہے تو جو فصل اُگتی ہے،وہ یہ ہے :
(14) یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ
ترجمۂ کنزالایمان:کہ وہ اللہ کے پیارے اوراللہ ان کا پیارا۔(پ6،المائدۃ :54)

    اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے دریا میں تیرتے ہیں۔ اس کے بابِ کرم کو لازم پکڑ لیتے ہیں۔اس کی بارگاہ میں کھڑے رہتے ہیں۔ اس کے احکام کی بجا آوری پر ہمیشگی اختیار کرتے ہیں اوراس سے والہانہ پیار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ راتوں کو آرام نہیں کرتے بلکہ بیدار رہتے ہیں۔ پس جب وہ اس کی محبت میں دنیا سے جاتے ہیں تو انہیں کوئی ملامت نہیں ہوتی۔
میں تیری محبت میں کمزور نہیں:
    حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن فضل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،جب حضرت سیِّدُنا یحیٰ بن معاذرازی علیہ رحمۃاللہ الباقی کاانتقال ہوا اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کوخواب میں دیکھ کر پوچھا گیا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا؟'' جواب دیا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے بخش دیا ۔''پوچھاگیا:''کس سبب سے؟''فرمایا:میں اپنی دعا میں عرض کرتا تھا، ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! اگرچہ میں تیری عبادت میں کمزور ہوں مگر تیری محبت میں کمزور نہیں۔''
روحانی بدن اورآسمانی عقلیں :
    حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں نے یمن کے ایک بزرگ کے متعلق سناکہ وہ محبت کرنے والوں ميں بلند مرتبہ اور کوشش کرنے والوں پر فوقیت رکھتے ہیں اوروہ علم و حکمت کاسر چشمہ ہیں۔ چنانچہ، میں حج کے ارادے سے
Flag Counter