| حکایتیں اور نصیحتیں |
بصرہ نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی آمد کا شہرہ سنا تو شانداراستقبال کیا۔جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ شہر میں داخل ہوئے تو لوگوں سے پوچھا: ''کیا یہاں کوئی میمونہ نامی عورت ہے؟''لوگو ں نے عرض کی:''آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اس دیوانی میمونہ کا پوچھتے ہیں جو دن میں بکریاں چراتی ہے اور اس کی مزدوری سے کھجور خریدتی ہے۔ اسے فقراء میں صدقہ کر دیتی ہے۔ رات کوچھت پرچڑھ جاتی ہے اور پھرکثرتِ گریہ و زاری اور چیخ و پکار سے کسی کو سونے نہیں دیتی۔''آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا: ''وہ اپنی آہ وزاری میں کیا کہتی ہے؟'' تو انہوں نے جواب دیا:وہ کہتی ہے:
عَجَباً لِلْمُحِبِّ کَیْفَ یَنَامُ کُلُّ نَوْمٍ عَلَی الْمُحِبِّ حَرَامُ
ترجمہ: تعجب ہے محبت کرنے والے پر! وہ کیسے سو جاتاہے۔ حالانکہ محب پر تو نیند حرا م ہوجاتی ہے۔
یہ سن کرآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! یہ دیوانوں کا کلام نہیں، مجھے اس کے پاس لے چلو۔''لوگوں نے عرض کی :''وہ جنگل میں بکریاں چرارہی ہے۔''آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اس کی طرف تشریف لے گئے تو دیکھا کہ اس نے ایک محراب بنا رکھا ہے اور اس میں نماز پڑھ رہی ہے۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دیکھاکہ بکریاں چررہی ہیں اور بھیڑیئے ان کی حفاظت کر رہے ہیں۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ یہ منظر دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' جب وہ نماز سے فارغ ہوئی تومیں نے کہا:''اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ
، اے میمونہ !''اس نے جواب دیا:
''وَعَلَیْکَ السَّلَام،
اے ربیع!'' میں نے پوچھا: ''تم میرا نام کیسے جانتی ہو؟''اس نے کہا:''سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے اس ذات نے آپ کا نام بتایا ہے جس نے گذشتہ رات خواب میں آپ کو خبر دی کہ میں آپ کی زوجہ ہوں۔ لیکن یہ وعدہ کی جگہ نہیں بلکہ ہمارے درمیان وعدہ کی جگہ جنت ہے۔'' میں نے پوچھا: ''یہ بھیڑیوں اوربکریوں کے اکٹھے رہنے کا معاملہ کیسا ہے؟''اس نے جواب دیا:''جب میرے دل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت پیدا ہوئی اور میں نے دل سے دنیا کی محبت نکال دی تو اس ذات نے بھیڑیوں اوربکریوں میں صلح کروا دی۔'' پھر اس نے کہا: ''اے ربیع!مجھے میرے مالکِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کا کلام تو سنایئے، مجھے اس کے سننے کا بہت شوق ہے ۔'' تومیں نے تلاوتِ قرآن شروع کردی:
(12) یٰۤاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ ۙ﴿1﴾قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا ۙ﴿2﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اے جھرمٹ مارنے والے!رات میں قیام فرما سوا کچھ رات کے۔(۱) (پ29، مزمل:1۔2)
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' یعنی اپنے کپڑوں سے لپٹنے والے۔ اس کے شانِ نزول میں کئی قول ہیں۔ بعض مفسّرین نے کہا کہ'' ابتداءِ زمانۂ وحی میں سیّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم خوف سے اپنے کپڑوں میں لپٹ جاتے تھے۔ ایسی حالت میں آپ کو حضرت جبریل نے یٰاَ یُّہَا الْمُزَّمِّلُ کہہ کر ندا کی۔ ایک قول یہ ہے کہ سیّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم چادر شریف میں لپٹے ہوئے آرام فرما رہے تھے، اس حالت میں آپ کو ندا کی گئی یٰاَ یُّہَا الْمُزَّمِّلُ ۔ بہرحال یہ ندا بتاتی ہے کہ محبوب کی ہر ادا پیاری ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنٰی یہ ہیں کہ رداءِ نبوت و چادرِ ر سالت کے حامل و لائق۔''