| حکایتیں اور نصیحتیں |
اے معرفتِ حق کے طالب!جب محبت کی ہوا دل کے خانوں میں چلتی ہے تو یہ محبوب کی ملاقات سے ہی راحت پاتی ہے۔ اورتو سحری کے وقت اہلِ معرفت کی مناجات سنے گا تو ان میں سے ہر ایک زبانِ حال سے اسی کے مطابق جواب دے گا جو احوال اس پر گزر رہے ہوں گے۔ پس اگر اس سے پوچھا جائے کہ''اے غمگین انسان! توہم تک کیسے پہنچا؟ '' تووہ جواب میں کہے گا: ''میں نے توکُّل اور عشقِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کو اپنایا تومجھے پتہ بھی نہ چلا کہ مجھے اس کی حضوری مل گئی۔''اور اگراس سے سوال کیا جائے کہ ''اے موت سے خوف کھانے والے! تو نے موت کو کیساپایا؟'' تو وہ کہے گا: ''میں نے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی رضا میں تکلیف کو خوشگوار جانا۔پس میں نے اس کے فضل کو سبقت لے جانے والااور اپنے حوصلے کوپیچھے رہ جانے والاپایا۔ مجھے اس سے کامیابی کی اُمید کیونکر نہ ہو حالانکہ میں اس کی رحمت پر یقین رکھتاہوں۔'' اور اگر اس سے پوچھا جائے کہ''اے زاہد! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے خرچ کرنے والی جگہوں کے متعلق تیرا عہد کیسا ہے ؟'' تو اس کا جواب ہوگاـ:'' میں نے خیر کے کاموں میں خرچ کرنے کے متعلق اس کایہ فرمانِ عالیشان سنا:
(11) مَا عِنۡدَکُمْ یَنۡفَدُ وَمَا عِنۡدَ اللہِ بَاقٍ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: جو تمہارے پاس ہے ہوچکے گااور جواللہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا۔(پ14،النحل :96)
تو جو کچھ میرے پاس تھا میں نے اسے اس کے لئے چھوڑ دیا جورب عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے۔ میں نے فناہوجانے والی چیزوں سے توجہ ہٹا کر باقی رہنے والی چیزوں پر توجہ دی۔''اور اگر اس سے سوال کیا جائے کہ ''اے ہم سے محبت کرنے والے! تیری ہماری بارگاہ تک کیسے رسائی ہوئی؟''تو وہ کہے گا: ''میں نے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے''یُحِبُّھُمْ''
کا جام پیاجس کے نشے سے
''وَیُحِبُّوْنَہ،
''کی خلوت میں کھوگیااور اس جامِ عشق کی وجہ سے مجھ پر غشی طاری ہوگئی پھر جلوۂ محبوب سے ہی اِفاقہ ہوا۔''
بھیڑئیے بکریوں کے محافظ بن گئے:
حضرت سیِّدُنا ربیع بن خیثم علیہ رحمۃاللہ الاعظم کے متعلق منقول ہے کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ہمیشہ شب بیداری کرتے تھے۔ایک دن آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی بیٹی نے عرض کی :''اے اباجان !اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق میں سب سے افضل کون ہے؟''تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''ہمارے آقا ومولیٰ حضرت سیِّدُنا محمد رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ۔'' یہ سن کر وہ کہنے لگی:'' حرمتِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا واسطہ! آج رات آپ سو جائیں۔'' تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بارگاہ ِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! تو جانتاہے کہ مجھے شب بیداری نیند سے زیادہ پیاری ہے لیکن میری بیٹی نے مجھے حضور نبئ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا واسطہ دیا ہے اس بناء پرآج مجھے سونا پڑے گا۔''چنانچہ، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ محو آرام ہوگئے۔ خواب میں دیکھا کہ بصرہ میں ایک میمونہ نامی خادمہ ہے جو جنت میں ان کی بیوی ہوگی۔ صبح ہوئی تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بصرہ روانہ ہو گئے۔ جب اہلِ