Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
491 - 649
کرم کا سوال کروں گا ۔اگرتو نے نافرمانی پر میرا حساب کتاب لیا تو میں تجھ سے احسان طلب کروں گا۔اگر تونے مجھے آگ میں داخل کیا تو میں اہلِ دوزخ سے کہوں گاکہ میں رب عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتا ہوں۔'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو آواز آئی:''اے ابو سلیمان! ہم تجھے جہنم میں نہیں بلکہ جنت میں داخل کریں گے کہ تو اہلِ جنت کو ہماری محبت کے متعلق بتائے، اہلِ دوزخ کو ہماری محبت سے آگاہ نہ کرے کیونکہ محبت کرنے والوں کا ٹھکانہ جنت اور دشمنوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔''

    اے میرے اسلامی بھائیو! محبت دُلہنوں کی مانند ہے اور اس کا حق مہر جانوں کی قربانی ہے۔ اس کی وجہ سے گردنیں اور سر جھکے رہتے ہیں۔یہ دلوں پر اپنی تجلِّی ڈالتی اور گدلا پن دور کرتی ہے۔ یہ عارف کے لئے نور ہے توجاہل کے لئے آگ۔ جب محبت کی پاکیزہ شراب اہلِ صفا کو اُکساتی ہے تو اہلِ وفا کے دل حاضر ہو جاتے ہیں۔پس ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ اس کاساز ہے تو توـحید باری تعالیٰ اس کا گلدستہ ہے۔ شکر اس کا ترجمان ہے تو ہیبت اس کی پہچان۔ اہلِ محبت کے لئے باغِ وصالِ یار کے دروازے کھولے جائیں گے، وہ صبح وشام اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے، محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ بلا حجاب اُن پر تجلِّی فرمائے گا اور خوش رو ملائکہ ہر دروازے سے ان کے پاس حاضر ہوں گے۔ پس قرآنِ حکیم کی تلاوت کرنے والوں کے لئے خوشخبری اور اچھا ٹھکانہ ہے۔اور خوف خدا عَزَّوَجَلَّ رکھنے والے اور برے حساب سے ڈرنے والے جنت میں آراستہ پیراستہ صوفوں سے ٹیک لگائے ہوں گے۔کیاہی اچھا ثواب ہے اُن کا۔
جنت میں یاقوت کا گھر :
    حضرت سیِّدُنا یوسف بن حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، میں نے حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کو فرماتے سنا: ''میں مصر کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک خاتون پر میری نظر پڑی جو چادر اوڑھے ہوئے نہ تھی۔ میں نے اسے کہا:''اے عورت! کیا تجھے بغیر چادر گھومتے ہوئے حیا نہیں آتی ؟'' تواس نے کہا:'' اے ذوالنون ! جب چہرے پر زردی غالب ہو تو چادر کا کیا کام ؟'' میں نے پوچھا:''تیرے چہرے پرکس چیز کی زردی چھائی ہوئی ہے؟'' جواب دیا:'' محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی۔'' میں نے کہا:''اے عورت! تیرے چہرے سے معلوم ہوتا ہے کہ تو نے شرا ب پی رکھی ہے ۔''اس نے جواب دیا: ''اے فضول بات کرنے والے! چُپ رہ۔ میں نے اس کی محبت کا جام پیا، مسرور ہو کر سوئی اور محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے نشے میں چُور ہوکر صبح کی۔'' میں نے کہا: ''اے خاتون! کیا میں تجھ سے کچھ مفید باتیں یا وصیت حاصل کرسکتا ہوں؟'' تو وہ کہنے لگی: ''اے ذوالنون!خاموشی کو لازم پکڑ یہاں تک کہ لوگ تجھے پریشان سمجھنے لگیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دئیے ہوئے رزق پر راضی رہ، جنت میں تیرے لئے یاقوت کا گھر بنایا جائے گا۔''
Flag Counter