| حکایتیں اور نصیحتیں |
نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کافرمانِ عالیشان ہے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے محبت فرماتاہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بلاتا ہے۔'' اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم فرماتا ہے: '' زمین و آسمان والوں میں اعلان کر دے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فلاں بندے سے محبت فرماتاہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔'' پھر اس کی محبت زمین میں اُتاری جاتی ہے۔وہ پانی میں پڑتی ہے تواسے نیک و بد سبھی پیتے ہیں تووہ بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اور جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی بندے کو ناپسند کرتا ہے تو حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کو اس کے برعکس حکم فرماتاہے پس نیک و بد سبھی اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ۔''
(صحیح البخاری،کتاب التوحید،باب کلام الرب تعالی۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۷۴۸۵، ص۶۲۴۔ صحیح مسلم،کتاب البر،باب اذا احب اللہ تعالٰی عبدًا۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۶۳۷، ص۱۱۳۷، مفھومًا)
محبوبانِ خدا عَزَّوَجَلَّ محبوبانِ اولیاء رحمہم اللہ تعالیٰ:
مذکورہ حدیث ِ پاک کی روشنی میں حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّورَانِیْ کے متعلق ایک حکایت منقول ہے:''ایک دفعہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کسی خلیفہ کے پاس تشریف لے گئے۔ خلیفہ نے پوچھا:''آپ کے دوست حضرت سیِّدُنا صالح یمانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کیا دُعا مانگتے ہیں؟''آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا،'' اُن کی دُعایہ ہے:
''اَللّٰھُمَّ حَبِّبْنِیْ اِلٰی قُلُوْبِ عِبَادِکَ
یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اپنے بندوں کے دلوں میں میری محبت ڈال دے ۔'' خلیفہ نے اس دعا کو کم تر سمجھتے ہوئے کہا: ''یہ اُن کی دعا ہے۔'' تو حضرت سیِّدُنا ثابت رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''کیا تم اس کو معمولی خیال کرتے ہو؟ میں نے حضرت سیِّدُنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبئ پاک، صاحب ِ لولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشاد فرماتے سنا: اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ندا فرماتا ہے کہ''میں فلاں بندے سے محبت کرتاہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔''پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آخر تک حدیث بیان فرمائی۔
(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب المقۃ من اللہ، الحدیث۶0۴0،ص۵۱0)
حدیث ِ پاک سنتے ہی خلیفہ کہنے لگا: ''میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتاہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔'' حضرت سیِّدُنا ثابت رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''دوسرے دن جب میں حضرت سیِّدُنا صالح یمانی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّورَانِیْ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کھڑے ہو گئے اور معانقہ فرماکر(یعنی گلے مل کر) میرے سر کابوسہ لیا اور ارشاد فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے خوش کرے جیسے مجھے خوش کیا۔ گذشتہ رات میں نے خواب میں دیکھا گویا میں مسجد ِ نبوی علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام میں بارگاہِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میں حاضر ہوں اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرما رہے ہیں: ''اپنی اس دعا
''اَللّٰھُمَّ حَبِّبْنِیْ اِلٰی قُلُوْبِ الْعِبَادِ۔''
پر قائم رہو۔کیونکہ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کسی بندے سے تبھی محبت کرتے ہیں جبکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اس سے محبت کرتا ہو ۔'' پھر میں نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو سلام کیا اور واپس لوٹ آیا۔''