Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
487 - 649
    ایک قول یہ بھی ہے کہ '' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے
''وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ ؕ ''
 اس لئے فرمایاکیونکہ پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایمان والوں سے محبت کی پھر مؤمنین نے اس سے محبت کی اور جس کی محبت کی گواہی معبودِ برحق عَزَّوَجَلَّ دے یقینا اس کی محبت زیادہ کا مل اور زیادہ صحیح ہے۔''
  (تفسیرالبغوی،سورۃالبقرۃ،تحت الآیۃ۱۶۵،ج۱،ص۹۵)
    چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی شان میں ارشاد فرماتا ہے:
(8) یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ
ترجمۂ  کنزالایمان:کہ وہ اللہ کے پیارے اوراللہ ان کا پیارا۔(پ6،المائدۃ :54)

    حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان:
''رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ۚ
ترجمۂ کنز الایمان: اے رب ہمارے! اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (برداشت)نہ ہو۔(پ3، البقرۃ : 286)'' کی تفسیر میں فرماتے ہیں: '' یہاں بوجھ سے مراد محبت ہے۔''
    (تفسیرالبغوی،سورۃالبقرۃ،تحت الآیۃ۲۸۶،ج۱،ص۲0۹''سفیان''بدلہ''ابراھیم'')
    حضرت سیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حضرت داؤدعلیہ الصلٰوۃ والسلام یوں دعا کیا کرتے:
''اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبْلِغُنِیْ حُبَّکَ، اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ وَاَھْلِیْ وَمِنَ الْمَآءِ الْبَارِدِ
یعنی اے میرے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے تیری محبت اور اس کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور اس عمل کی محبت کا سوالی ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! مجھے اپنی جان،گھر والوں اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ اپنی محبت عطا فرما۔''(آمین)
(جامع التر مذی، کتاب الدعوات، باب دعاء داؤدعلیہ السلام۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۳۴۹0،ص۱۱ ۲0)
    حضرت سیِّدُنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ محبت نشان ہے: '' جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتاہے اُسے چاہیے کہ وہ مجھ سے محبت کرے اورجو مجھ سے محبت کرتاہے اُسے چاہیے کہ وہ میرے صحابہ سے محبت کرے اور جومیرے صحابہ سے محبت کرتاہے اُسے چاہیےکہ وہ قرآن پاک سے محبت کرے اورجو قرآن پاک سے محبت کرتاہے اسے چاہیے کہ وہ مساجد سے محبت کرے۔ کیونکہ یہ ایسی عمارتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بنانے اور پاک رکھنے کا حکم دیا اور ان میں برکت رکھی۔ پس یہ خیرو برکت والی جگہیں ہیں اور ان کے رہنے والے بھی خیروبرکت میں ہیں۔یہ پسندیدہ جگہیں ہیں اور ان میں رہنے والے بھی پسندیدہ ہیں۔ یہ لوگ اپنی نمازوں میں ہوتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی ضرورت پوری فرماتا ہے ۔یہ مساجد میں ہوتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کو اپنے مقاصد میں کامیابی عطا فرماتاہے۔''
 (المجروحین لابن حبان، الرقم۱۲۷۱،ابومعمر،ج۲،ص۵۱0،بتغیرٍ)
    حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو
Flag Counter