Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
489 - 649
    حضرت سیِّدُنا ابویزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہ، الرَّبَّۤانِیْ یوں دُعا مانگا کرتے تھے :''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے اس بات پر تعجب نہیں کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں کیونکہ میں تو تیراایک حقیربندہ ہوں ۔بلکہ تعجب تو اس بات پر ہے کہ تو مجھ سے محبت فرماتا ہے حالانکہ تو مالک اور قدرت والا ہے۔''

    حضرت سیِّدُنایحیٰ بن معاذ رازی علیہ رحمۃ اللہ القاضی یوں مناجات کرتے تھے:''یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! یہ بات عجیب نہیں کہ ایک حقیر بندہ اپنے ربّ ِجلیل عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتا ہے۔ بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ ربّ ِ جلیل عَزَّوَجَلَّ اپنے ذلیل بندے سے محبت کرتا ہے۔''

     بعض عارفین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں: '' محبت ایک دانہ ہے جو دلوں کی زمین میں کاشت کیا جاتا اور عقلوں کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔پس وہ پانی کی صفائی اور زمین کی عمدگی کے مطابق پھل دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
(9) وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہٗ بِاِذْنِ رَبِّہٖ ۚ وَالَّذِیۡ خَبُثَ لَایَخْرُجُ اِلَّا نَکِدًا ؕ
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑابمشکل۔(پ8،الاعراف:58)

    حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،حضور نبئ اَکرَم، نورِ مجسَّم، شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ''تین خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ اسلام کی حلاوت پا ئے گا:(۱)۔۔۔۔۔۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں(۲)۔۔۔۔۔۔ کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے کرے اور (۳)۔۔۔۔۔۔ اسلام لانے کے بعد دوبارہ کفر میں لوٹنے کو اس طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے ۔''
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان خصال من۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۱۶۵،ص۶۸۷)
    حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پروردْگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ راحت نشان ہے: اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت فرمائے گا: ''میری خاطرباہم محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنے سایۂ (رحمت) میں جگہ عطا فرماؤں گا،آج میرے سایۂ (رحمت) کے سوا کوئی سایہ نہیں۔''
 (صحیح مسلم،کتاب البر،باب فضل الحب فی اللہ تعالی، الحدیث۲۵۶۶، ص۱۱۲۷)
    حضرت سیِّدُنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں،میں نے نبئ کریم، ر ء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو فرماتے سنا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ''میرے لئے آپس میں محبت کرنے والوں کے لئے(بروزِ قیامت) نور کے منبر ہوں گے جن پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے ۔''
 (جامع التر مذی،ابواب الزھد ،باب ماجاء فی الحب فی اللہ،الحدیث ۲۳۹0، ص۱۸۹۲)
عظیم خادمہ :
    حضرت سیِّدُناعبداللہ بن حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''میرے پاس ایک عجمی خادمہ تھی۔ایک رات وہ محو ِ آرام تھی پھر
Flag Counter