ترجمۂ کنزالایمان:پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی پر عقیدہ لاکر ۔(پ21،العنکبوت:65)
مزید ارشاد فرماتاہے:
(4) وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنۡ تَدْعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:اور جب تمہیں دریا میں مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے سوا جنہیں پُوجتے ہیں سب گم ہو جاتے ہیں۔(پ15،بنی اسرائیل:67)
مؤمن مصیبت وخوشحالی اورآزمائش وغیرہ کسی حال میں بھی بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے اعراض نہیں کرتااوراس پر کسی کو ترجیح نہیں دیتا۔''حضرت سیِّدُناحسن رحمۃا للہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''کافر واسطے کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بتوں کے متعلق کہتے تھے، جسے اللہ عَزَّوَجَل قرآنِ مبین میں یوں بیان فرماتا ہے:
(5) مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللہِ زُلْفٰی ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:کہتے ہیں ہم تو انہیں صرف اتنی بات کے لئے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کر دیں۔ (پ23،الزمر :3)
اوروہ یہ بھی کہتے تھے :
(6) ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللہِ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔(پ11،یونس :18)
اس کے برعکس اہلِ ایمان کسی واسطے کے بغیراللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں،جسےاللہ عَزَّوَجَلَّ یوں بیان فرماتا ہے:
(7) وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اور ایمان والوں کواللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔(پ2،البقرۃ:165)
منقول ہے، ''کیونکہ مشرکین اپنے بہت سے (باطل) معبودوں سے محبت کرتے ہیں اس لئے ان کی محبت مشترک ہے جبکہ مؤمنین کی محبت غیر مشترک ہے کیونکہ وہ صرف خدا ئے واحد عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتے ہیں۔''
اورایک قول یہ ہے کہ'' کفار کے معبودان کے اپنے ہی بنائے ہوتے ہیں جبکہ مؤمنین اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کو ہر چیز کا بنانے والا اور ہر مخلوق کاخالق مانتے ہیں۔''
اوربعض نے کہا کہ''کافربتوں کو دیکھ کر ان سے محبت کرتے ہیں جبکہ مسلمان بن دیکھے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتے ہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان بھی بن دیکھے لاتے ہیں۔اسی وجہ سے ان سے آخرت میں دیدارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا وعدہ فرمایاگیا۔''