Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
466 - 649
پرفائز فرمایااور بڑی بڑی نعمتیں عطافرمائیں۔ عیسائی پادریوں اور یہودی راہبوں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی نبوت کی بشارت دی اور کاہنوں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری کی خوشخبری دی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے عمدہ اوصاف اور اچھی تعریف ساری کائنات میں عام کردی ۔ ربّ ِ کائنات نے ربیع الاول جیسے مبارک مہینے میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جلوہ نمائی فرمائی اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ساری مخلوق سے افضل بنایا اور عزت و وقارکے عظیم جُبّے پہنائے۔ لوگوں کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رسالت کے ذریعے متنبہ فرمایا۔ اور اپنی لاریب کتاب قرآنِ مجید، فرقانِ حمیدمیں ارشاد فرمایا:
''اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیۡکُمْ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمْ کَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوۡلًا ﴿ؕ۱۵﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے کہ تم پر حاضر ناظر ہیں جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجے۔(پ۲۹،مزمل:۱۵)

    اے میرے دانش مند اسلامی بھائیو! ذرادیکھو تو سہی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اس محترم نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے کیسے کیسے اعلیٰ انعامات، اعزاز اورعظیم فضائل تیار کررکھے ہیں۔ پس یہی وہ رسول ہیں جو خلقِ عظیم اور عزت وعظمت کی صفت سے متصف ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلّ نے آپ کی شان بیان کرتے ہوئے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:
''لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾
ترجمۂ  کنزالایمان:بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول،جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔''(۱) (پ۱۱،التوبۃ:۱۲۸)

    بے شک انسان نے سب سے پہلے جس کلام سے ابتداء کی اور زبان نے قوت گویائی حاصل کی وہ اس ذات کا کلام ہے جس نے ساری مخلوق کو پید ا کیا اور قوتِ گویائی عطا فرمانا محض اس خالقِ کا ئنات جَلَّ جَلَالُہٗ کا مخلوق پرفضل و احسان ہے ۔اسے کسی حاجت نے مخلوق کی پیدائش پر مجبور نہیں کیا تھا اور نہ ہی کوئی ضرورت ایسی تھی جس کی وجہ سے وہ محتاج تھا کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے کیونکہ وہ تو مطلقاً غنی و بے پرواہ ہے اور وہ تو ایسی ذات ہے جس کے خزانے بہت زیادہ خرچ کرنے کے باوجود ختم نہیں ہوتے اور اس کا اپنے بندوں پرسب سے بڑا فضل واحسان یہ ہے کہ اس نے ان کے پاس اپنے مخلص ومہربان ،عظمت وجلال
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''(یعنی )محمدِ مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم عربی قرشی، جن کے حسب ونسب کو تم خوب پہچانتے ہوکہ تم میں سب سے عالی نسب ہیں اور تم اُن کے صدق و امانت زہد و تقویٰ، طہارت وتقدّس اور اخلاقِ حمیدہ کو بھی خوب جانتے اور ایک قراء ۃ میں
اَنْفَسِکُمْ بفتحِ فا
آیا ہے۔اس کے معنٰی ہيں کہ تم میں سب سے نفیس تر اور اشرف و افضل اس آیتِ کریمہ میں سیِّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری یعنی آپ کے میلادِ مبارک کا بیان ہے۔ ترمذی کی حدیث سے بھی ثابت ہے کہ سید ِ عالم صلَّی  اللہ علیہ وآلہ وسلَّم وسلم نے اپنی پیدائش کا بیان قیام کرکے فرمایا۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ محفلِ میلادِ مبارک کی اصل قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔اس آیت میں اللہ تبا رک وتعالیٰ نے اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنے دو ناموں سے مشرف فرمایا۔یہ کمالِ تکریم ہے اس سرور انور صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی۔''
Flag Counter