ترجمۂ کنزالایمان:اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔(پ۳0،التکویر:۲۴)'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے احمد مجتبیٰ، محمدِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے نوری وجود سے کفر کی تاریکیاں دور فرمادیں، آسمانِ ایمان پر ستاروں کو چمکایا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے انوار وتجلیات سے مہینے کی آخری انتہائی تاریک تین راتوں کو روشن فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری پر ایران کا شعلہ زن آتَش کدہ بجھادیا۔شاہِ ایران کو اس کے سلطنت کے زوال سے ڈراتے ہوئے اس کے محل ''کِسریٰ'' میں شگاف ڈال دئیے۔ شاہِ روم قیصرنے اپنی ہلاکت پر دلالت کرنے والا خواب دیکھ لیا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس امت کو اپنے محبوب نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے تمام امتوں پر فضیلت ورفعت عطا فرمائی اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پختۂ ارادوں کی تلوار کی برکت سے اس امت کے سامنے بلند وبالا چوٹیوں کو سر نگوں کردیا۔ اس لئے امت پر لازم ہے کہ شب ِ میلادُالنبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم(یعنی بارہ ربیع النورشریف ) کو اپنی سب سے بڑی عید بنا لیں اور سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادت پرحد درجہ خوشیاں منائیں اورغرباء ومساکین پرصدقہ وخیرات کر کے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خوشنودی حاصل کریں اوریتیموں ،بیواؤں اور کمزوروں کی امدادکرکے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی وصیت پرعمل کریں۔ علماء کرام دامت برکاتہم العالیہ اورمبلّغین لوگوں کے سامنے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادت باسعادت کے واقعات بیان کریں۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وجودِ مسعود کی برکت سے لوگوں پر جو مہربانیاں فرمائیں انہیں اور آپ کے خصائلِ حمیدہ کو لوگوں کے سامنے ثابت کریں تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو جس مقام و مرتبہ اور قدرت وطاقت سے نوازا ہے وہ ان کے دلوں میں راسخ ہو جائے نیزوہ یہ بات بھی جان لیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی مثل کوئی انسان پیدانہیں فرمایا۔