Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
465 - 649
اسلام ہمیشہ بلند ومضبوط ہوتا رہے گا اور کفرو شرک کمزور وذلیل ہوتارہے گا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوپاک پشتوں سے پاک رحموں میں منتقل فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اصول و فروع کے اعتبار سے طیب و طاہر ہیں۔ میلادِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر شاہِ ایران کے محل'' کِسریٰ'' میں زلزلہ آگیا، اس کی بنیادیں کمزور پڑ گئیں اور وہ گرنے کے قریب ہوگیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی عظمتِ شان کی خاطر آپ کو امت کے گنہگاروں کا شفیع بنایا۔اُمت کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے فرامین توجہ سے سننے اور احکام کی بجاآوری کا حکم فرمایا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو دنیا میں اس امت کا رسول اورآخرت میں شفیع بنایا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو لوگوں کے سامنے اپنی عظمت و شرف بیان کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشادفرمایا:
''قُلْ یٰاَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا
ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں۔''(۱)(پ۹،الاعراف:۱۵۸)

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضور پرنور، شاہِ غیور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو عزت کاتاج پہنایااور ساری کائنات کوآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے نورسے منوّر فرمایا۔ دیہاتی اور شہری لوگوں کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ذریعے عزت عطا فرمائی۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ہر قسم کے گدلے پن سے محفوظ رکھااورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مبارک نور سے فارس کا صدیوں سے جلنے والا آتش کدہ بجھا دیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادت کی برکت سےحَنَادِس(یعنی آخر ِماہ کی تین انتہائی سیاہ راتوں)کی تاریکیوں کو روشنی عطافرمائی۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ہیبت وجلال کی پوشاک عطافرمائی۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پرسلسلۂ نبوت ورسالت کو ختم فرمایا۔ قرآنِ کریم میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اور صحابۂ  کرام علیہم الرضوان کی شان یوں بیان فرمائی:
'' مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ
ترجمۂ کنزالایمان:محمداللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں۔''(۲)(پ۲۶،الفتح:۲۹)

    حضور نبئ رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایسے نبی ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوشاندار عزت ومقام
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''یہ آیت سیّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کے عمومِ رسالت کی دلیل ہے کہ آپ تمام خلق کے رسُول ہیں اور کل جہاں آپ کی اُمت۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے، حضور فرماتے ہیں ''پانچ چیزیں مجھے ایسی عطا ہوئیں جو مجھ سے پہلے کِسی کو نہ ملیں : ہر نبی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں سُرخ و سیاہ کی طرف مبعوث فرمایا گیا۔ میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں اور مجھ سے پہلے کِسی کے لئے نہیں ہوئی تھیں۔ میرے لئے زمین پاک اور پاک کرنے والی (قابلِ تیمم) اور مسجد کی گئی جس کِسی کو کہیں نماز کا وقت آئے وہیں پڑھ لے۔ دشمن پر ایک ماہ کی مسافت تک میرارعب ڈال کر میری مدد فرمائی گئی۔اور مجھے شفاعت عنایت کی گئی۔'' مسلم شریف کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ'' میں تمام خلق کی طرف رسُول بنایا گیا اور میرے ساتھ انبیاء ختم کئے گئے۔''

2۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''صحابہ کا تشدّد کفّار کے ساتھ اس حد پر تھا کہ وہ لحاظ رکھتے تھے کہ ان کا بدن کِسی کافر کے بدن سے نہ چھو جائے اور ان کے کپڑے سے کِسی کافر کا کپڑا نہ لگنے پائے ۔'' (مدارک )
Flag Counter