| حکایتیں اور نصیحتیں |
کی خبریں بتانے والے(نبی)!بے شک ہم نے تمہیں بھیجاحاضر ناظراور خوشخبری دیتااور ڈرسنا تا۔اوراللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتااور چمکادینے والا آفتاب۔''(۱)(پ۲۲،الاحزاب:۴۵۔۴۶)
حضور نبئ پاک، صاحب ِلولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سیِّدُ المرسلین ،امامُ المتّقین ہیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمام مخلوقات پر برتر وبالا مقام عطا فرمایا اوراس وقت نبوت عطافرمادی تھی جبکہ حضرت سیِّدُنا آدم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام پانی اور مِٹی کے درمیان تھے۔ (یعنی ابھی آدم علیہ السلام کی تخلیق بھی مکمل نہ ہوئی تھی) اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ساری مخلوق کا رسول بنایا اور قرآنِ مجیدمیں ارشاد فرمایا:وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجامگر رحمت سارے جہان کے لئے۔''(۲)(پ۱۷،الانبیآء: ۱0۷)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بلند مقام عطا فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو عجب حسن سے نوازا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادت باسعادت کو مؤمنین کے لئے بہار بنایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی برکت سے دینِ1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''شاہد کا ترجمہ حاضر و ناظر بہت بہترین ترجمہ ہے۔ ''مفرداتِ راغب'' میں ہے اَلشُّھُوْدُ وَالشَّھَادَۃُ الْحُضُوْرُ مَعَ الْمُشَاھَدَۃِ اِمَّا بِالْبَصَرِ اَوْبِالْبَصِیْرَۃِ یعنی شہود اور شہادت کے معنٰی ہیں حاضر ہونا مع ناظر ہونے کے، بصر کے ساتھ ہو یا بصیرت کے ساتھ اور گواہ کو بھی اسی لئے شاہد کہتے ہیں کہ وہ مشاہدہ کے ساتھ جو علم رکھتاہے اس کو بیان کرتا ہے ۔ سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم تمام عالم کی طرف مبعوث ہیں۔ آپ کی رسالت عامہ ہے۔جیسا کہ ''سورہ فرقان کی پہلی آیت میں بیان ہوا تو حضُور پُر نُورصلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم قیامت تک ہونے والی ساری خلق کے شاہد ہیں اور ان کے اعمال و افعال و احوال، تصدیق، تکذیب، ہدایت، ضلال سب کا مشاہدہ فرماتے ہیں ۔(ابوالسعود وجمل) سراج کا ترجمہ قرآنِ کریم کے بالکل مطابق ہے کہ اس میں آفتاب کو سراج فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ سورہ نوح میں
وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِراَجاً
اور آخر پارہ کی پہلی سورۃ میں ہے
وَجَعَلْنَا سِرَاجاً وَّھَّاجاً
اور درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نورِ نبوّت نے پہنچائی اور کفر و شرک کے ظلماتِ شدیدہ کو اپنے نُورِ حقیقت افروز سے دُور کردیا اور خلق کے لئے معرفت و توحید ِ الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کردیں اور ضلالت کے وادئ تاریک میں راہ گم کرنے والوں کو اپنے انوارِ ہدایت سے راہ یاب فرمایا اور اپنے نُورِ نبوّت سے ضمائروبصائر اور قلوب و ارواح کو منور کیا۔ حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتاب عالم تاب ہے جس نے ہزار ہاآفتاب بنادئیے اسی لئے اس کی صفت میں منیر ارشاد فرمایا گیا۔'' 2۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''کوئی ہو، جن ہو یا انس، مؤمن ہو یا کافر۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور کا رحمت ہونا عام ہے ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا ۔ مؤمن کے لئے تو آپ دُنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دُنیامیں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت تاخیرِ عذاب ہوئی اور خسف ومسخ اور استیصال کے عذاب اُٹھادئیے گئے۔ تفسیرِ رُوحُ البیان میں اس آیت کی تفسیر میں اکابر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمتِ مطلقہ تامہ کاملہ عامہ شاملہ جامعہ محیطہ بہ جمیعِ مقیدات رحمتِ غیبیہ وشہادتِ علمیہ وعینیہ ووجود یہ و شہودیہ و سابقہ ولا حقہ وغیر ذلک تمام جہانوں کے لئے عالمِ ارواح ہوں یا عالمِ اجسام ،ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول اور جو تمام عالموں کے لئے رحمت ہو لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو۔''