| حکایتیں اور نصیحتیں |
تمام خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔وہ ایسا ''احد'' ہے جو اپنی صفت سَرْمَدِیّت (یعنی ازلی و ابدی ہونے) میں یکتاہے۔ وہ ایسا ''فرد'' ہے جو اپنی صفتِ ربوبیت (یعنی رب ہونے) میں یکتاہے۔وہ ایسا ''شکور'' ہے جس کے علاوہ حقیقتۃً کسی کا شکر کیا جاتا ہے نہ کسی کی حمد۔وہ ایسا ''غفور'' ہے جو سچی توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔وہ ایسا بادشاہِ حقیقی ہے جس نے سب ممالک اوربادشاہوں کو فنا کیاجبکہ اس کی سلطنت کوکبھی زوال نہ آئے گا۔ وہ ایسا بلندرتبہ ہے جس کی طرف پاکیزہ کلمات بلند ہوتے ہیں۔ وہ ایسا حاکمِ مطلق ہے جس نے تمام اہلِ دنیا کی موت کا اٹل فیصلہ فرما دیا ہے لہٰذاکوئی بھی اس دُنیا میں ہمیشہ نہ رہے گا۔ اس نے اپنے برگزیدہ رسولوں کومبعوث فرمایاتاکہ وہ قابلِ حمد وستائش راہِ حق کی طرف لوگوں کی راہنمائی فرمائیں اور انہیں اس ہستی کے سامنے پردہ بنائے رکھا جس کے لئے بروزِ قیامت شفاعت اور لِوَاءُ الحَمْد(یعنی حمد کے جھنڈے)کا وعدہ ہے اور اس ہستی کو خَاتَمُ الْاَنْبِیَاء صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بنا کر بھیجا تاکہ وہ لوگوں کے لئے راہِ ہدایت و اضح فرمائیں۔ اسی لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:
وَ اِذْ قَالَ عِیۡسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِی اسْمُہٗۤ اَحْمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۶﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اوریادکروجب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتاہوا۔ اور ان رسول کی بشارت سناتاہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے، ان کانام احمد ہے، پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے بولے یہ کھلا جادو ہے۔''(پ۲۸،الصَف:۶)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے حبیب ِ مکرّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قدرو منزلت کا اظہار اور تعظیم و توقیر کرتے ہوئے ان کا ذکر بلند فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ذریعے مشرکین کی شرک کی آگ کو بجھا یا اور مؤمنین کے لئے نورِ ایمان ظاہر فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ذریعے آپ کی امت کو کامل فرحت و سرور عطا فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ساری انسانیت کے لئے بشیر ونذیر(یعنی خوش خبری دینے والا اور ڈر سنانے والا)بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کواللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور چمکادینے والا آفتاب بناکر بھیجا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ہر موجود شئے کے لئے رحمت بناکرمبعوث فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مبارک نور سے ساری کائنات کو منوّرفرمایا۔ چنانچہ،اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے:''یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۴۵﴾ۙوَّ دَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿۴۶﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اے غیب