Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
458 - 649
تھے کہ اچانک موت کاقاصد آیا تو وہ کوچ کر گئے اورلمحہ بھر بھی نہ ٹھہر سکے ۔کتنے ہی ستونوں جیسے لوگ تھے جنہیں شہوات ولذات کے ساتھ مضبوط کیا گیاتھا مگر وہ بھی گر گئے۔ کتنے ہی موجود تھے جو اس دن کے آنے سے پہلے پہلے فنا ہو گئے ۔

    اے میرے اسلامی بھائی! عنقریب تیرا بھی یہی حال ہوگالیکن دُنیا کا دھوکا اسے تجھ سے چھپاتا ہے اور تیرابھی یہی انجام ہو گا۔ لہٰذاغور وفکرکرکہ تو کس ڈَگَر پرچل رہا ہے۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تیری تندرستی بیماری میں بدل گئی ہے، عافیت ختم ہو چکی ہے،قلم نے تیری تقدیر میں مصیبتیں لکھ دی ہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قضا و قدر کے مطابق تیری عمر ختم چکی ہے، تیری موت کا وقت قریب آچکا ہے اورروح ہنسلی کی ہڈی تک پہنچ چکی ہے اور تو نعمتوں کی لذت بھول چکا ہے،دل دوستوں کی جدائی پر حسرت کا شکار ہے اور چھپے ہوئے آنسو بہہ نکلے ہیں۔ تیری یہ حالت محض ایک لمحہ ہو گی پھر روح پرواز کرجائے گی اور دُکھ ڈیرے ڈال لے گا اورتُو انتہائی وحشت ناک تاریک گھر میں قیام کر ے گا۔افسوس ہے تجھ پر! اگر تجھے تیرے پروردْگار عَزَّوَجَلَّ نے  گناہوں کی سزا دی اور تجھ سے اپنی نافرمانیوں کا انتقام لیا۔افسوس ہے تجھ پر! اگر پُل صراط سے تیرے قدم پھسل گئے۔ہائے!اس پرحسرت و افسوس! جس کی حالت ایسی ہو گی، وہ کب تک خواہشات کی اس غفلت میں مبتلا رہے گا؟
سیب سے جنّتی پوشاک برآمد ہوئی:
    منقول ہے کہ مصر میں کھجوروں کا ایک تاجر رہتا تھاجس کا نام عطیہ بن خلف تھا۔ وہ بہت مال دار تھا پھر اچانک فقیر ہو گیا کہ اس کے پاس تن ڈھانپنے کے لئے ایک کپڑے کے سواکچھ بھی باقی نہ بچا۔ جب عاشوراء کا دن آیا تو اس نے جامع مسجد عمرو بن عاص میں نمازِ فجر اداکی۔عام طور پر اس مسجد میں عاشوراء کے دن ہی عورتیں دعا کے لئے آتی تھیں۔ وہ تاجر بھی باقی لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو کر دعا مانگنے لگا۔ وہ عورتوں سے ہٹ کر ایک طرف کھڑا تھا کہ ایک عورت اپنے ساتھ یتیم بچوں کو لے کر اس کے پاس آئی اور عرض کی:'' جناب ! میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پرسوال کرتی ہوں کہ آپ میری مشکل آسان کر دیجئے،مجھے کچھ عنایت فرمائیے جس سے میں ان بچوں کی غذا حاصل کر سکوں کیونکہ ان کا باپ مرچکاہے اور اس نے ان کے لئے کچھ نہیں چھوڑا۔ میں ایک عزت دارخاتون ہوں۔میراکوئی واقف کار بھی نہیں کہ اس کے پاس جاسکوں۔ آج محض اس ضرورت و حاجت کی وجہ سے مجھے ذلیل ہو کر گھر سے نکلنا پڑا ورنہ ہی مجھے مانگنے کی عادت ہے۔'' تاجر نے اپنے دل میں سوچاکہ میں توکسی چیز کا مالک نہیں اور اس لباس کے سوا میرے پاس کوئی چیز بھی نہیں۔اب اگر میں یہ لباس اس کودیتا ہوں تو خود برہنہ ہو جاؤں گااور اگر اس کو خالی لوٹاتا ہوں تواللہ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں کیا عذر پیش کروں گا۔بہرحال اس نے عورت سے کہا: '' میرے ساتھ چلو، میں تمہیں کچھ دوں گا۔''وہ عورت اس کے ساتھ اس کے گھر گئی۔ تاجر نے اس کو دروازے پر
Flag Counter