Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
459 - 649
کھڑا کر دیااور خود گھر میں داخل ہو کر اپنے کپڑے اُتار کر ایک پھٹا پرانا کپڑا لپیٹ لیا اورپھر دروازے کی دراز میں سے وہ لباس اس عورت کو دے دیا۔عورت نے اس کے حق میں دعاکی:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو جنّتی پوشاک پہنائے اور آپ کو بقیہ عمر کسی کامحتاج نہ کرے۔''تاجر عورت کی دعا سن کربہت خوش ہوا ۔اس نے دروازہ بند کیااورپھر گھر میں داخل ہو کررات گئے تک ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مشغول ہو گیا۔ جب رات کو سویا تو خواب میں ایک ایسی حسین و جمیل حُوردیکھی جس کی مثل دیکھنے والوں نے نہ دیکھی ہوگی۔ اس کے ہاتھ میں ایک سیب تھا جس کی خوشبو آسمان و زمین کے درمیان پھیلی ہوئی تھی۔ حور نے وہ سیب تاجرکو دیاتو اس میں سے ایک جنّتی حُلّہ نکلا جس کی قیمت ساری دنیابھی نہ بن سکے۔اس نے وہ لباس تاجر کو پہنا یااور خود اس کے قریب بیٹھ گئی۔ تاجر نے پوچھا: '' تم کون ہو؟'' بولی:''میرا نام عاشوراء ہے اورمیں تیری جنتی بیوی ہوں۔''تاجر نے پوچھا:'' مجھے یہ مقام ومرتبہ کیسے ملا؟'' تو اس نے جواب دیا:'' اس بیوہ اور یتیم بچوں کی دعا کی وجہ سے جن پر تو نے کل احسان کیاتھا۔''جب تاجربیدار ہوا تو وہ اتنا خوش تھا جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس کا سارا گھر جنّتی لباس کی خوشبو سے معطَّر تھا۔اس نے وضوکر کے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر بجا لاتے ہوئے دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر آسمان کی جانب منہ اُٹھا کر عرض کی: '' اے میرے پروردگارعَزَّوَجَلَّ ! اگر میرا خواب سچا ہے اورجنت میں میری بیوی عاشوراء ہو گی تومجھے اپنی بارگاہ میں واپس بلا لے۔'' ابھی اس کی دعا پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی روح کو جنت میں بھیج دیا۔
       (نزھۃ المجالس،کتاب الصوم،باب فضل صیام عاشوراء۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱، ص۲۳۳)
    اے میرے اسلامی بھائیو!یہ چند ایک بشارتیں ہیں جو بندۂ  مؤمن کو موت کے وقت ملتی ہیں تو اب اس کی تیاری کرنے والے کہاں ہیں؟ وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے دنیا میں بھلائی کا بیج بویا اور آخرت میں تعریف کی فصل کاٹیں گے؟صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی بلکہ زیادہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ کہاں گئے جنہوں نے خزانے جمع کئے اور شہروں کو آباد کیا؟ اوروہ کہاں ہیں جنہوں نے لشکروں کی قیادت کی اور لوگوں کو اپنا غلام بنایا؟ وہ کہاں ہیں جنہوں نے پختہ محلات بنائے؟ ان کے آباء واجداد کہاں ہیں؟

     سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! وہ لوگ کتنے عظیم ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں اچھے اعمال میں جلدی کی اور حیا ووقار کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا اور اس دن کے لئے اچھے اعمال کئے جس کے بارے میں ہے:
 (6)کُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا کَسَبَتْ رَہِیۡنَۃٌ ﴿ۙ38﴾
ترجمہ کنزالایمان:ہرجان اپنی کرنی(اعمال)میں گروی ہے۔(پ29،المدثر:38)
حضرت سیِّدُنانوح علیہ السلام کا معجزہ:
    اس دن کی قدرومنزلت معروف ہے کہ اسی دن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا نوح علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو طوفان سے نجات عطا فرمائی۔ جب آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے رفقاء کے ساتھ کشتی سے باہرتشریف لائے تو آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام
Flag Counter