کھڑا کر دیااور خود گھر میں داخل ہو کر اپنے کپڑے اُتار کر ایک پھٹا پرانا کپڑا لپیٹ لیا اورپھر دروازے کی دراز میں سے وہ لباس اس عورت کو دے دیا۔عورت نے اس کے حق میں دعاکی:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو جنّتی پوشاک پہنائے اور آپ کو بقیہ عمر کسی کامحتاج نہ کرے۔''تاجر عورت کی دعا سن کربہت خوش ہوا ۔اس نے دروازہ بند کیااورپھر گھر میں داخل ہو کررات گئے تک ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مشغول ہو گیا۔ جب رات کو سویا تو خواب میں ایک ایسی حسین و جمیل حُوردیکھی جس کی مثل دیکھنے والوں نے نہ دیکھی ہوگی۔ اس کے ہاتھ میں ایک سیب تھا جس کی خوشبو آسمان و زمین کے درمیان پھیلی ہوئی تھی۔ حور نے وہ سیب تاجرکو دیاتو اس میں سے ایک جنّتی حُلّہ نکلا جس کی قیمت ساری دنیابھی نہ بن سکے۔اس نے وہ لباس تاجر کو پہنا یااور خود اس کے قریب بیٹھ گئی۔ تاجر نے پوچھا: '' تم کون ہو؟'' بولی:''میرا نام عاشوراء ہے اورمیں تیری جنتی بیوی ہوں۔''تاجر نے پوچھا:'' مجھے یہ مقام ومرتبہ کیسے ملا؟'' تو اس نے جواب دیا:'' اس بیوہ اور یتیم بچوں کی دعا کی وجہ سے جن پر تو نے کل احسان کیاتھا۔''جب تاجربیدار ہوا تو وہ اتنا خوش تھا جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس کا سارا گھر جنّتی لباس کی خوشبو سے معطَّر تھا۔اس نے وضوکر کے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر بجا لاتے ہوئے دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر آسمان کی جانب منہ اُٹھا کر عرض کی: '' اے میرے پروردگارعَزَّوَجَلَّ ! اگر میرا خواب سچا ہے اورجنت میں میری بیوی عاشوراء ہو گی تومجھے اپنی بارگاہ میں واپس بلا لے۔'' ابھی اس کی دعا پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی روح کو جنت میں بھیج دیا۔