Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
457 - 649
نہیں جانتا تھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے بے شمار عطا کیا اور اسلام کی دولت سے نوازا۔ تو وہ مسلمان کتنا بدبخت ہے جو اس دن کی فضیلت وثواب کوجاننے کے باوجود عمل میں سستی کرے۔ اے میرے اسلامی بھائیو! تم نے قدرت وطاقت کے اوقات کو ضائع کردیا، آخرت کو بھول گئے اور اس فانی دنیا سے دل لگابیٹھے۔صالحین سے کنارہ کش ہو کر فجار کے ہم مجلس بن گئے۔ اخلاص پر میلے کُچیلے دلوں کو ترجیح دی۔آزاد ہونے کے باوجود خواہش کے غلام بن گئے اور شہوات کی لذت میں  گناہوں کی کڑواہٹ کو یاد نہ کیا۔
شب ِ عاشوراء کا وسیلہ کام آگیا:
    منقول ہے، بصرہ میں ایک مال دار آدمی رہتا تھا۔ ہر سال شب ِ عاشوراء کو اپنے گھرمیں لوگوں کوجمع کرتا جو قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرکرتے۔ اسی طرح رات بھر تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا سلسلہ جاری رہتا۔پھر وہ شخص سب کو کھانا پیش کرتا۔مساکین کی خبر گیری کرتا۔ بیواؤں اور یتیموں سے بھی اچھا سلوک کرتا۔اس کا ایک پڑوسی تھا جس کی بیٹی اپاہج تھی۔اس لڑکی نے اپنے باپ سے پوچھا: ''اے میرے والد ِ محترم! ہمارا پڑوسی ہرسال اس رات لوگوں کو کیوں جمع کرتا ہے؟ اور پھر سب مل کرتلاوتِ قرآن اور ذکر کرتے ہیں۔''باپ نے بتایا:'' یہ عاشوراء کی رات ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں اس کی بہت حرمت ہے اور اس کے بہت زیادہ فضائل ہیں ۔''جب سب گھر والے سو گئے تو بچی سحری تک بیدار رہ کرقرآنِ عظیم کی تلاوت اور ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سنتی رہی۔ جب لوگوں نے قرآنِ حکیم ختم کر لیا اور دعا مانگنے لگے تو اس لڑکی نے بھی اپنا سر آسمان کی جانب اُٹھا دیا اورعرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! تجھے اس رات کی حرمت کا واسطہ اوران لوگوں کا واسطہ جنہوں نے ساری رات تیرا ذکر کرتے ہوئے جاگ کر گزاری ہے! مجھے عافیت عطا فرما دے، میری تکلیف دور کر دے اور میرے دل کی شکستگی دور فرما دے۔'' ابھی اس کی دعا پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اس کی تکلیف اور بیماری ختم ہو گئی اور وہ اپنے پاؤں پر اٹھ کھڑی ہوئی۔جب باپ نے اس کو پاؤں پر کھڑے ہوئے دیکھا تو پوچھا :'' اے میری بیٹی !کس نے تجھ سے اس رنج وغم اور مصیبت کو دور کیاہے؟''تو اس نے جواب دیا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ پر اپنی رحمت کا بادل برسایا اور انعامات و نوازشات میں ذرہ بھر بخل نہ کیا۔اے میرے والد ِ محترم! میں نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس رات کاوسیلہ پیش کیا تو اس نے میری تکلیف دور فرما دی اور میرے جسم کو صحیح فرما دیا۔''

    اے میرے اسلامی بھائیو! نفع حاصل کرنے کے زمانے کو غنیمت جانو کہ ایسے اہم دن گنتی کے ہیں۔فرصت کو غنیمت جانو کہ سلامتی کے اوقات موجود ہیں۔ جلد ازجلدخوب کوشش کرنے والے کی طرح اچھے اعمال کر لو۔ دُنیا کی فضولیات سے کنارہ کش ہو جاؤاوراس کی غلامی سے چھٹکاراحاصل کر لو،اس سے پہلے کہ تم حسرت کی گھڑی سے دو چار ہوجاؤ۔ اس کے بعد تم قبر کے تاریک گڑھے میں چلے جاؤ گے۔ کتنے ہی لوگ یوم عاشوراء سے پہلے تندرست تھے لیکن آج وہ بیمار ہیں۔کتنے ہی افراد مطمئن
Flag Counter