ترجمہ کنزالایمان:جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہوں گا۔(پ13،یوسف: 98)
اس آیتِ مبارکہ کے تحت حضرت سیِّدُناطاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''حضرت سیِّدُنا یعقوب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس دعائے مغفرت کرنے کو شب ِ جمعہ تک مؤخر فرمایا جو کہ شب ِ عاشوراء بھی تھی۔''
(تفسیر البغوی،سورۃ یوسف،تحت الآیۃ۹۸، ج۲، ص۳۷۷)
حضرت سیِّدُناابن شہاب علیہ رحمۃ اللہ الوہاب ارشاد فرماتے ہیں: '' ہمیں صحابۂ کرام و تابعینِ عظام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت سیِّدُنا علی بن ابی طالب، حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری ، حضرت سیِّدُنا علی بن حسین اور حضرت سیِّدُنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،مسند علی بن ابی طالب،الحدیث۱0۶۹،ج۱،ص۲۷۳،مختصرًا)
یومِ عاشوراء کے مستحبات پہلے بیان کئے جا چکے ہیں۔ اب کچھ ایسے امور ذکر کئے جاتے ہیں جو پہلے بیان نہیں ہوئے۔ اس دن غسل کرنا مستحب ہے۔ منقول ہے:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ محرم کی دسویں رات آبِ زمزم شریف کو دنیا کے تمام پانیوں میں ملادیتا ہے لہٰذا جو شخص اس دن غسل کرے تمام سال بیماری سے محفوظ رہے گا۔''
اس دن یہ امور بھی مستحب ہیں: صدقہ کرنا، یتیم کے سر پر شفقت کاہاتھ رکھنا ، روزہ دارکو افطار کرانا، پانی پلانا، رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کرنا، مریضوں کی عیادت کرنا،روزہ رکھنا،گھر والوں پر خرچ میں کشادگی کرنا، والدین کے ساتھ عزت و اکرام سے پیش آنا، جنازوں میں شرکت کرنا،راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، غصہ پی جانا، ظالم کو معاف کر دینا ،نفل پڑھنا اور ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی کثرت کرنا۔
نیز یہ بھی مستحب ہے جو کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے، '' جس نے عاشوراء کے دن ہزار مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھی خدائے رحمن عَزَّوَجَلَّ اس پر نظرِ رحمت فرمائے گا اور جس پر رحمن عَزَّوَجَلَّ نظرِرحمت فرمائے گاتو وہ اُسے کبھی عذاب نہ دے گا۔''
(نزھۃ المجالس، کتاب الصوم،باب فضل صیام عاشوراء ۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱،ص۲۳۱، مختصرًا)