| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ''حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ بن عمران علیہ الصلٰوۃ والسلام پر تورات میں نازل فرمایا کہ جس نے یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا گویا اس نے سارا سال روزہ رکھا۔''
(نزھۃ المجالس،کتاب الصوم،باب فضل صیام عاشوراء ۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱،ص۲۳۳)
حضرت سیِّدُناسَلَمَہ بن اَکوَع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ''شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعث ِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک شخص کو حکم فرمایا کہ لوگوں میں اعلان کر دے: '' جس نے کچھ کھا لیا ہے وہ بقیہ دن کچھ نہ کھائے اور جس نے کچھ نہیں کھایا وہ روزہ رکھ لے کیونکہ آج عاشوراء کا دن ہے۔''
(صحیح البخاری،کتاب الصوم،باب صوم یوم عاشوراء،الحدیث۲00۷،ص۱۵۶)
حضرت سیِّدُناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے:''جب سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مدینہ منورہ تشریف لائے تویہودیوں کو عاشوراء کے دن کاروزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان سے دریافت فرمایا :'' یہ کیسا روزہ ہے؟''تو انہوں نے جواب دیا:'' یہ برکت والا دن ہے، اسی دن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام اور بنی اسرائیل کو دُشمن سے نجات عطا فرمائی تو آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا اور اسی وجہ سے ہم بھی رو زہ رکھتے ہیں ۔'' اس پر حضور نبئ کریم، ر ء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''ہم تم سے زیادہ موسیٰ(علیہ الصلٰوۃوالسلام) سے تعلق کے حق دار ہیں ۔''چنانچہ، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔''
(صحیح البخاری،کتاب الصوم،باب صوم یوم عاشوراء،الحدیث۲00۴،ص۱۵۶)
عاشوراء صدقہ کا دن ہے:
عاشوراء کے دن صدقہ وخیرات ،نیکی ،ایثار ،رشتے داروں پر احسان،صلہ رحمی ،رحمت اور فقراء و مساکین پر نرمی و شفقت کرنا دُگنے اجرکا باعث ہے۔ چنانچہ،
عاشورا ء میں صدقہ کی برکت سے یہودی مسلمان ہو گیا:
منقول ہے، ایک عیال دار فقیر نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ مل کر عاشوراء کے دن روزہ رکھا۔ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا لہٰذا وہ خوراک کی تلاش میں گھر سے نکلا تا کہ افطاری کااہتمام کر سکے لیکن کچھ نہ ملا۔ پھروہ سناروں کے بازار میں داخل ہوا اور ایک آدمی کو دیکھا کہ اپنی دُکان میں قیمتی چمڑے کے ٹکڑے بچھا کر ان پر سونے چاندی کے ڈھیر اُلٹ رہا ہے۔وہ اس کے